خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 497 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 497

خطبات مسرور جلد 17 497 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 ستمبر 2019 تھے۔بنو سالم بنو غنم اور بنو عوف بن خزرج کو بھی قواقلہ کہا جاتا تھا۔بنو عوف کے سردار حضرت عبادہ بن صامت تھے۔حضرت نعمان بن مالک غزوہ بدر اور احد میں شریک ہوئے اور غزوہ احد میں شہید ہوئے۔انہیں صفوان بن امیہ نے شہید کیا تھا۔ایک دوسری روایت کے مطابق حضرت نعمان بن مالک کو ابان بن سعید نے شہید کیا تھا۔حضرت نعمان بن مالک حضرت مُجدِّر بن زیاد اور حضرت عبادہ بن حِسّحاس کو غزوۂ احد کے موقع پر ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا تھا۔الطبقات الكبرى لا بن سعد الجزء الثالث صفحه414 النعمان بن مالك، دارالکتب العلمية بيروت لبنان 2012ء)(اسد الغابه جلد 3 صفحه 158-159 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2008ء) (السيرة النبوية لابن هشام صفحه 560 ذِكْرُ مَن اسْتُشْهِدَ بِأُحُدٍ مِنْ الْمُهَاجِرِين صفحه 468 الانصار ومن معهم ، دار الكتب العلميه بيروت 2001)(عمدة القاری جلد 14 صفحه 182 مطبوعه دار احياء التراث العربي بيروت 2003ء) حضرت نعمان بن مالک نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غزوۂ احد کے لیے نکلتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عبد اللہ بن ابی بن سلول سے مشورہ کے وقت عرض کیا کہ یارسول اللہ ! بخدا میں جنت میں ضرور داخل ہوں گا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ کیسے ؟ تو حضرت نعمان نے عرض کیا اس وجہ سے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور میں لڑائی سے ہر گز نہ بھاگوں گا۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے سچ کہا۔چنانچہ وہ اسی روز شہید ہو گئے۔(اسد الغابه في معرفة الصحابه المجلد الخامس صفحه 322 "النعمان بن مالك الخزرجی“ دارالکتب العلميه بيروت لبنان 2008ء) خالد بن ابو مالک جعدی روایت کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کی کتاب میں یہ روایت پائی کہ حضرت نعمان بن قوقل انصاری نے دعا کی تھی کہ مجھے تیری قسم اے میرے رب ! ابھی سورج غروب نہیں ہو گا کہ میں اپنے لنگڑے پن کے ساتھ جنت کی سرسبزی میں چل رہا ہوں گا۔چنانچہ وہ اسی روز شہید ہو گئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا قبول کر لی کیونکہ میں نے اسے دیکھا، یہ کشفی رنگ میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا آپ نے فرمایا کہ میں نے اس کو دیکھا کہ وہ جنت میں چل رہا تھا اور اس میں کسی قسم کا لنگڑ اپن یا لڑ کھڑاہٹ نہیں تھی۔(معرفة الصحابة لابی نعیم جلد 04 صفحه 317 ، النعمان بن قوقل الانصاري، دار الكتب العلمية بيروت 2002) حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں تھے جبکہ صحابہ اسے فتح کر چکے تھے۔میں نے کہا یار سول اللہ ! مجھے بھی حصہ دیں۔سعید بن عاص کے ایک بیٹے نے کہا کہ یارسول اللہ ! اسے حصہ نہ دیں۔حضرت ابوہریرہ نے کہا کہ یہ نعمان بن قوقل کا قاتل ہے۔ابن سعید بن عاص نے کہا کہ اس پر تعجب ہے ہم پر اکڑتا ہے۔ابھی ضان پہاڑی، جو تہامہ کے علاقہ میں ہے اور حضرت ابوہریرہ کے قبیلے دوس کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ ہے کہتے ہیں اس کی چوٹی پر سے بکریاں چراتا ہمارے پاس آگیا ہے اور مجھ پر عیب لگاتا ہے کہ میں نے ایک مسلمان مرد کو قتل کر دیا تھا۔پھر وہ کہنے لگا کہ جس کو