خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 496 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 496

خطبات مسرور جلد 17 496 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 ستمبر 2019 جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے رہے۔ایک روایت میں یہ بیان ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ غزوہ حنین کے دن ہماری صورتِ حال یہ تھی کہ مسلمانوں کی دو جماعتیں پیٹھ پھیرے ہوئے تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سو آدمی بھی نہیں تھے۔(سنن الترمذى ابواب الجهاد بَاب مَا جَاءَ فِي الثَّبَاتِ عِنْدَ القِتَالِ حديث 1689) غزوہ حنین کے موقعے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم راہ ثابت قدم رہنے والے صحابہ کی تعداد کے متعلق مختلف آرا ہیں۔ان کے مطابق ایسے صحابہ کی تعد اد اشتی اور سو کے درمیان تھی۔(سبل الهدى والرشاد جلد 05 صفحه 484، ذكر من ثبت مع رسول الله الله يوم۔،نمين دار احياء التراث قاهره، 1992ء) بعض کہتے ہیں سو تھی، بہر حال یہ تعداد میں بہت تھوڑے تھے۔پھر جن صحابی کا ذکر اس وقت کروں گا ان کا نام ہے حضرت نعمان بن مالک۔حضرت نعمان بن مالک کا نام نعمان بن قوقل بھی بیان کیا جاتا ہے۔امام بخاری نے ان کا نام ابن قوقل بیان کیا ہے۔علامہ بدرالدین عینی جو ایک عالم تھے وہ بخاری کی شرح میں لکھتے ہیں کہ ابن قوقل کا مکمل نام نعمان بن مالک بن ثعلبہ بن اصرم تھا اور تعلبہ یا اضرم کا لقب قوقل تھا اور نعمان اپنے دادا کی طرف منسوب ہوتے تھے اس لیے انہیں نعمان بن قوقل کہا جاتا تھا۔(صحيح البخارى كتاب الجهاد والسير باب الكافر يقتل المسلم۔۔۔۔۔۔حديث 2827) (عمدة القارى جلد 14 صفحه 12-13- كتاب الجهاد والسير باب الكافر يقتل المسلم۔۔۔۔۔۔، دار احياء التراث العربي بيروت 2003ء) حضرت نعمان بن مالک کی چال میں ذرا لنگڑ اپن پایا جاتا تھا۔(معرفة الصحابة لابي نعيم جلد 04 صفحه 317 ، باب النون 2850 النعمان بن قوقل الانصاري، دار الكتب العلمية بيروت 2002ء) حضرت نعمان بن مالک کے والد کا نام مالک بن ثعلبہ اور والدہ کا نام عمرہ بنت زیاد تھا اور وہ حضرت مجند بن زیاد کی ہمشیرہ تھیں۔حضرت نعمان کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو غم سے تھا۔یہ قبیلہ قوقل کے نام سے مشہور تھا۔ابن ہشام کے نزدیک حضرت نعمان بن مالک نعمان قوقل کے نام سے بھی مشہور تھے اور ابن ہشام نے ان کا قبیلہ بنو دَعُد بھی بیان کیا ہے۔قوقل کیوں کہلاتے تھے پچھلی دفعہ بھی ایک خطبے میں بیان کر چکا ہوں کہ جب مدینے میں کسی سردار کے پاس کوئی شخص پناہ کا طلب گار ہو تا تو اسے یہ کہا جاتا تھا کہ اس پہاڑ پر جیسے مرضی چڑھ۔یعنی اب تو امن میں ہے، جس طرح مرضی رہ اور تو اس حالت میں لوٹ جا کہ تو فراخی محسوس کر، کوئی تنگی نہیں اب تجھے اور کسی چیز کا خوف نہ کھا اور وہ لوگ جو پناہ دینے والے تھے وہ قواقلہ کے نام سے مشہور تھے۔تاریخ لکھنے والے ابن ہشام یہ کہتے ہیں کہ ایسے سردار جب کسی کو پناہ دیتے تو اسے ایک تیر دے کر کہتے اس تیر کو لے کر اب جہاں مرضی جا۔حضرت نعمان کے داد اثعلبہ بن دعد کو قوقل کہا جاتا تھا۔پناہ دینے والوں میں سے تھے۔اسی طرح خزرج کے سردار غنم بن عوف کو بھی قوقل کہا جاتا تھا۔اسی طرح حضرت عبادہ بن صامت بھی قوقل کے لقب سے مشہور