خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 495
خطبات مسرور جلد 17 495 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 ستمبر 2019 حضرت عبد اللہ بن مخرمہ غزوہ بدر اور بعد کے باقی تمام غزوات میں شامل ہوئے۔حضرت عبد اللہ بن مخرمہ جب جنگ بدر میں شامل ہوئے تو اس وقت ان کی عمر تیس سال تھی۔حضرت ابو بکر صدیق کے دور خلافت میں جب یہ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے تو اس وقت ان کی عمر اکتالیس سال تھی۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 308-309 "عبد الله بن مَخْرَمَهُ وَمِنْ بَنِي عَامِرِ بن لؤي دار الكتب العلميه بيروت لبنان 1990ء) (اسد الغابه فى معرفة الصحابه المجلد الثالث صفحه 377 - 378 "عبد الله بن مخرمه دار الكتب العلميه بيروت لبنان 2008ء) حضرت عبد اللہ بن مخرمہ کا جذبہ شہادت انتہائی حد تک بڑھا ہوا تھا۔چنانچہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کیا کرتے تھے کہ مجھے اس وقت تک وفات نہ دینا جب تک میں اپنے جسم کے ہر جوڑ پر خدا کی راہ میں لگاز خم نہ دیکھ لوں۔چنانچہ جنگ یمامہ کے روز ان کے جوڑوں پر زخم پہنچے جن کی وجہ سے یہ شہید ہو گئے۔(الاصابه في تمييز الصحابه لابن حجر عسقلانى جلد4 صفحه 193 عبد الله بن مخرمه، دارالفکر بيروت 2001ء) حضرت عبد اللہ بن مخرمہ بہت زیادہ عبادت گزار تھے۔جوانی میں بھی بڑی عبادت کیا کرتے تھے۔حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ جنگ یمامہ کے سال میں حضرت عبد اللہ بن مخرمہ اور حضرت ابو حذیفہ کے آزاد کردہ غلام حضرت سالم ایک ساتھ تھے۔ہم تینوں باری باری بکریاں چرایا کرتے تھے۔لشکر کے لیے کچھ مال بھی تھا، اس کی حفاظت کرنی ہوتی تھی۔چنانچہ جس دن لڑائی شروع ہوئی وہ دن میرا بکریاں چرانے کا تھا۔پس میں بکریاں چرا کر آیا تو میں نے حضرت عبد اللہ بن مخرمہ کو میدانِ جنگ میں زخمی حالت میں گرا ہوا پایا تو میں ان کے پاس ٹھہر گیا۔انہوں نے کہا اے عبد اللہ بن عمرؓ ! کیا روزہ دار نے افطاری کرلی ہے ؟ شام کا وقت ہو گیا تھا، میں نے کہاہاں۔تو انہوں نے کہا کہ اس ڈھال میں کچھ پانی دے دو کہ میں اس سے افطار کر لوں۔وہ جنگ میں بھی روزے کی حالت میں تھے۔حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں پانی لینے چلا گیا مگر جب میں واپس آیا تو وہ وفات پاچکے تھے۔(اسد الغابه في معرفة الصحابه المجلد الثالث صفحه 377 عبد الله بن مَخْرَمه دارالکتب العلميه بيروت لبنان 2008ء)(ماخوذ از سیر الصحابه جلد دوم صفحه 570 حضرت عبدالله مخرمه مطبوعه دار اشاعت کراچی) حضرت عمرو بن معبد اگلے صحابی ہیں جن کا اب میں ذکر کروں گا۔حضرت عمرو بن معبد کا نام عمیر بن معبد بھی بیان کیا جاتا ہے۔ان کے والد کا نام معبد بن أَذعر تھا۔حضرت عمرو بن معبد اللہ کا تعلق انصار کے قبیلہ اوس کی شاخ بنو ضُبیعہ سے تھا۔(السيرة النبوية لابن هشام صفحه 465 ، باب الانصار و من معهم ، دار الكتب العلمية بيروت 2001ء) حضرت عمرو بن معبد غزوہ بدر، احد، خندق سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے۔حضرت عمرو بن معبد غزوہ حنین کے روز ان سو بہادری کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کرنے والے صحابہ میں سے تھے جن کے رزق کا کفیل اللہ تعالیٰ ہو گیا تھا۔الطبقات الكبرى لابن سعد الجزء الثالث صفحه 353 عمير بن مَعْبَد، دار الكتب العلمية بيروت لبنان 2012ء)