خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 494
خطبات مسرور جلد 17 494 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 ستمبر 2019 بعض اپنے انکار کے اظہار کے لیے فصیلوں پر نمودار ہیں اور میں ان کی ذمہ داری نہیں لے سکتا، وہ میرے قابو سے باہر ہیں۔حضرت خالد نے قلعوں کی طرف دیکھا تو وہاں دیکھا کہ وہ سپاہیوں سے بھرے ہوئے تھے ، عورتوں نے وہ لباس پہنے ہوئے تھے اس کی چال کی وجہ سے وہاں کھڑی تھیں۔اس شدید لڑائی میں خود مسلمانوں کو نقصان پہنچا تھا، لڑائی بہت طویل ہو گئی تھی مسلمان چاہتے تھے کہ فتح حاصل کر کے جلد واپس چلے جائیں چنانچہ حضرت خالد نے مجاعہ سے اس شرط پر صلح کر لی کہ تمام سونا چاندی مویشی اور نصف لونڈی وغلام حضرت خالد کے قبضہ میں دے دیے جائیں گے اور ایک قول کے مطابق چوتھائی قیدیوں پر صلح کر لی۔اس جنگ میں مسلمانوں کی جانب سے مدینے کے مہاجرین و انصار میں سے تین سو ساٹھ اور مدینے کے علاوہ تین سو مہاجرین شہید ہوئے جبکہ بنو حنیفہ میں سے عقربا کے میدان میں سات ہزار اور باغ میں سات ہزار اور فرار ہونے والوں کا تعاقب کرتے ہوئے بھی سات ہزار کفار کو قتل کیا گیا۔جب یہ لشکر مدینہ واپس پہنچا تو حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے حضرت عبد اللہ سے فرمایا کہ تو زید سے قبل کیوں نہ شہید ہوا۔زید شہید ہو گیا جبکہ تو ابھی بھی زندہ ہے، کیوں نہ تم نے مجھ سے اپنا چہرہ چھپا لیا۔اس پر حضرت عبد اللہ نے عرض کیا کہ حضرت زید نے اللہ تعالیٰ سے شہادت مانگی اور اللہ نے انہیں وہ عطا کر دی اور میں نے اس کی کوشش کی کہ میری طرف بھی لائی جائے مگر مجھے وہ حاصل نہ ہو سکی۔بہر حال اسی سال جنگ یمامہ میں صحابہ کرام کی بکثرت شہادتوں کے بعد حضرت ابو بکر نے تدوین قرآن کا حکم دیا تا کہ کہیں قرآن کریم ضائع نہ ہو جائے۔اس کو جمع کیا گیا۔یہ یمامہ کی تفصیل تھی۔(ماخوذ از الكامل فى التاريخ جلد 2 صفحه 218 تا 223 ، سنة احدى عشر ، ذكر مسيلمه واهل يمامه، دارالکتب العلميه بيروت 2006ء) (ماخوذ از تاریخ الطبری جلد 3 صفحه -300-310 باب ذكر بقيه خبر مسيلمه الكذاب وقومه من اهل اليمامه، دارالفکر بيروت 2002ء) (ماخوذ از تاریخ ابن خلدون مترجم علامه حکیم احمد حسین اله آبادی، جلد 3 حصه اول صفحه 231 دار الاشاعت کراچی 2003ء) اب اگلے جن صحابی کا ذکر ہو گا ان کا نام ہے حضرت عبد اللہ بن مخرمہ۔ان کا نام عبد اللہ بن مخرمہ تھا اور کنیت ابو محمد تھی۔ان کا تعلق قبیلہ بنو عامر بن لوٹی سے تھا۔انہیں عبد اللہ اکبر بھی کہا جاتا تھا۔یہ ابتدائی اسلام لانے والے صحابہ میں سے تھے۔ان کے والد کا نام مخرمہ بن عبد العزی اور والدہ کا نام بہ کنانہ بنت صفوان تھا۔حضرت عبد اللہ بن مخرمہ کی اولاد میں ایک بیٹے مساحق کا ذکر ملتا ہے جو ان کی بیوی زینب بنت سراقہ سے تھے۔حضرت عبد اللہ بن مخرمہ اوائل میں اسلام لانے والوں میں شامل تھے۔حضرت عبد اللہ بن مخرمہ کو دو ہجر تیں کرنے کی سعادت نصیب ہوئی، ایک حبشہ کی طرف اور دوسری مدینہ کی طرف۔ابن اسحاق نے حضرت عبد اللہ بن مخرمہ کا ذکر ان صحابہ میں کیا ہے جنہوں نے حضرت جعفر کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی۔یونس بن بگیر ، سلمہ اور بکائی نے ابن اسحاق کا یہ قول بیان کیا ہے جس میں انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مخترمہ کی حبشہ کی طرف ہجرت کا ذکر کیا ہے۔حضرت عبد اللہ بن محتر مہ جب مدینہ ہجرت کر کے پہنچے تو انہوں نے حضرت کلثوم بن ہرم کے گھر قیام کیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد اللہ بن مخرمہ کی مواخات حضرت فروہ بن عمر و انصاری سے کروائی۔