خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 493
خطبات مسرور جلد 17 493 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 ستمبر 2019 رہی ہے یعنی بڑی قابل شرم بات ہے جو ہمارا حال ہو رہا ہے۔مسلمانوں کے لیے اس سے زیادہ کوئی مصیبت کا دن نہ تھا۔مسیلمہ ابھی تک اپنی جگہ پر قائم تھا اور کفار کی طرف سے جنگ کا مرکز تھا۔حضرت خالد نے یہ پتا کر لیا یہ ان کو احساس ہو گیا کہ جب تک اسے قتل نہیں کیا جائے گا تب تک جنگ بند نہیں ہو گی۔اس پر حضرت خالد آگے نکلے اور انہوں نے مبارزت طلب کی اور جنگی شعار کا نعرہ لگایا جو اس وقت یا مُحَمَّدَا ہ تھا۔جو بھی میدان میں آیا تو وہ قتل ہو ا۔اس پر مسلمان حرکت میں آئے۔پھر حضرت خالد نے مسیلمہ کو پکارا۔وہ سامنے نہیں آیا اور بھاگ گیا اور اپنے ساتھیوں سمیت ہی اپنے باغ میں پناہ لینے پر مجبور ہو گیا اور باغ کا دروازہ بند کر دیا۔مسلمانوں نے اس باغ کا محاصرہ کر لیا۔حضرت براء بن مالک نے کہا کہ اے مسلمانو! تم مجھے دیوار پر چڑھا کر اندر اتار دو۔بڑے جرات مند ، بہادر شخص تھے۔مسلمانوں نے کہا کہ ہم ایسا نہیں کر سکتے مگر حضرت برانا نہیں مانے اور اصرار کیا کہ آپ لوگ مجھے کسی طرح اس باغ کے اندر ڈال دیں۔چنانچہ مسلمانوں نے انہیں باغ کی دیوار پر چڑھایا اور وہاں سے وہ دشمنوں میں کود پڑے اور باغ کے اندر چلے گئے۔اندر جا کے انہوں نے دروازہ کھول دیا۔مسلمان باغ کے اندر داخل ہوئے۔پھر گھمسان کی جنگ ہوئی۔وحشی نے مسیلمہ کو قتل کیا۔یہ شخص و حشی وہی ہے جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چاحضرت حمزہ کو شہید کیا تھا۔بہر حال ایک روایت کے مطابق وحشی اور ایک انصاری نے مشترکہ طور پر مسیلمہ کو قتل کیا تھا۔وحشی نے اپنا بھالا مسیلمہ کی طرف پھینکا اور انصاری نے اپنی تلوار سے اس پر وار کیا۔دونوں نے ایک ہی وقت میں وار کیا تھا اس لیے بعد میں وحشی کہا کرتے تھے کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہم میں سے کس کے وار نے اس کا کام تمام کیا۔حضرت عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے بیچ کر یہ اعلان کیا کہ مسیلمہ کو سیاہ غلام نے قتل کر دیا ہے۔اس لیے یہ بھی زیادہ امکان ہے کہ وحشی نے قتل کیا۔حضرت خالد نے مجاعہ کے ذریعے مسیلمہ کی لاش کا پتا معلوم کروایا۔مجاعہ نے حضرت خالد سے کہا کہ مسلمانوں کے مقابلے میں آنے والے لوگ جلد باز اور ناتجربہ کار تھے۔تمام قلع جو ہیں وہ بڑے تجربہ کار فوجیوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ان کی طرف سے میرے سے صلح کر لیں اگر اب جنگ کی تو مسلمانوں کا اور زیادہ نقصان ہو گا۔بڑی چال چلی اس نے۔حضرت خالد نے مجاعہ سے اس شرط پر صلح کر لی کہ صرف جانیں معاف کر دی جائیں گی، تمہیں چھوڑ دیا جائے گا، کچھ نہیں کہا جائے گا، قیدی نہیں بنایا جائے گا۔اس کے علاوہ ہر شے پر مسلمان قبضہ کر لیں گے۔مُجاعہ ہوشیار آدمی تھا اس نے کہا کہ میں قلعے والوں کے پاس جاتا ہوں اور ان سے مل کر مشورہ کر کے آتا ہوں۔مسیلمہ تو قتل ہو چکا تھا اس لیے طاقت تو ان کی ٹوٹ چکی تھی لیکن اس کی ہوشیاری پھر ان کا فروں کے کام آئی۔مُجاعہ قلعے میں آیا تو وہاں سوائے عورتوں اور بچوں اور بوڑھوں کے اور کمزوروں کے اور کوئی بھی نہیں تھا۔اس نے یہ چال چلی کہ عورتوں کو زر میں پہنائیں اور ان سے کہا کہ میری واپسی تک تم قلعے کی فصیل پر جاکر اوپر کھڑی ہو جاؤ او پر اور جنگ کا شعار جو ہے برابر بلند کرتی رہو۔حضرت خالد کے پاس آکر اس نے کہا کہ جس شرط پر میں نے تم سے صلح کی تھی قلعے والے اسے نہیں مانتے ، یعنی جانوں کی آزادی اور باقی سب مال مسلمانوں کا۔اور ان میں سے