خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 34
خطبات مسرور جلد 17 34 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جنوری2019 کہ یہ بوجھ خیبر کے بوجھ جیسا نہیں بلکہ اے ہمارے رب !یہ بوجھ بہت بھلا اور پاکیزہ ہے۔نیز فرماتے تھے: اللهُمَّ اِنَّ الْأَجْرَ أَجْرُ الْآخِرَةِ فَارْحَمِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةِ کہ اے اللہ اصل ثواب تو آخرت کا ثواب ہے۔اس لئے تو انصار اور مہاجرین پر رحم فرما۔یہ بھی بخاری کی روایت ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اس واقعہ ہجرت کے بارے میں تحریر فرمایا ہے۔آپ نے (صحیح البخاری کتاب مناقب الانصار باب هجرة النبي يا الله۔۔۔الخ حدیث 3906) اسے اپنے مختلف انداز میں بیان فرمایا ہے اس لئے تھوڑی سی یہ تفصیل بھی میں بیان کر دیتا ہوں۔آپ لکھتے ہیں کہ : آخر مکہ مسلمانوں سے خالی ہو گیا، صرف چند غلام، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابو بکر اور حضرت علی مکہ میں رہ گئے۔جب مکہ کے لوگوں نے دیکھا کہ اب شکار ہمارے ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے تو رؤساء پھر جمع ہوئے اور مشورے کے بعد انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دینا ہی مناسب ہے۔خدا تعالیٰ کے خاص تصرف سے آپ کے قتل کی تاریخ آپ کی ہجرت کی تاریخ سے موافق پڑی۔جب مکہ کے لوگ آپ کے گھر کے سامنے آپ کے قتل کے لئے جمع ہو رہے تھے تو آپ رات کی تاریکی میں ہجرت کے ارادہ سے اپنے گھر سے باہر نکل رہے تھے۔" ایک طرف کفار اکٹھے ہو رہے تھے۔دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی رہنمائی فرمائی تو اسی وقت آپ باہر نکل رہے تھے۔ملکہ کے لوگ ضرور شبہ کرتے ہوں گے کہ ان کے ارادہ کی خبر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مل چکی ہو گی مگر پھر بھی جب آپ ان کے سامنے سے گزرے تو انہوں نے یہی سمجھا کہ یہ کوئی اور شخص ہے اور بجائے آپ پر حملہ کرنے کے سمٹ سمٹ کر آپ سے چھپنے لگ گئے کہ یہ نہ ہو " کہ یہ جو کوئی اور شخص تھا جا کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دے دے کہ ہم اکٹھے ہو رہے ہیں تا کہ ان کے ارادوں کی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو خبر نہ ہو جائے۔" اس لئے سمٹ رہے تھے۔آپ لکھتے ہیں کہ " اس رات سے پہلے دن ہی آپ کے ساتھ ہجرت کرنے کے لئے ابو بکر کو بھی اطلاع دے دی گئی تھی۔پس وہ بھی آپ کو مل گئے اور دونوں مل کر تھوڑی دیر میں مکہ سے روانہ ہو گئے اور مکہ سے تین چار میل پر ثور نامی پہاڑی کے سرے پر ایک غار میں پناہ گزیں ہوئے۔جب مکہ کے لوگوں کو معلوم ہوا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے چلے گئے ہیں تو انہوں نے ایک فوج جمع کی اور آپ کا تعاقب کیا۔ایک کھوجی انہوں نے اپنے ساتھ لیا جو آپ کا کھوج لگاتے ہوئے ثور پہاڑ پر پہنچا۔وہاں اس نے اس غار کے پاس پہنچ کر جہاں آپ ابو بکرؓ کے ساتھ چھپے ہوئے تھے یقین کے ساتھ کہا کہ یا تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اس غار میں ہے یا آسمان پر چڑھ گیا ہے۔اس کے اس اعلان کو سن کر ابو بکر کا دل بیٹھنے لگا اور انہوں نے آہستہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا دشمن سر پر آپہنچا ہے اور اب کوئی دم میں " تھوڑی دیر میں " غار میں داخل ہونے والا ہے۔آپ نے فرمایا لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا۔ابو بکر ! ڈرو نہیں۔خد ا ہم دونوں کے ساتھ ہے۔حضرت ابو بکر نے جواب میں کہا یار سول اللہ ! میں اپنی جان کے لئے نہیں ڈرتا کیونکہ میں تو ایک معمولی انسان ہوں۔مارا گیا تو ایک آدمی ہی مارا جائے گا۔یارسول اللہ ! مجھے تو صرف یہ خوف تھا کہ اگر آپ کی جان کو کوئی گزند پہنچاتو دنیا میں سے روحانیت اور دین کا نام مٹ جائے گا۔آپ نے فرمایا کوئی پروا نہیں۔یہاں