خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 492
خطبات مسرور جلد 17 492 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 ستمبر 2019 ایسے لوگوں کا کام ہوتا ہے۔بہر حال مسیلمہ کے قبیلہ بنو حنیفہ پر اس شخص کے ارتداد کا مسیلمہ کے دعوی کی نسبت سے کہیں زیادہ برا اثر پڑا کیونکہ یہ تربیت کے لیے بھیجا گیا تھا اور اس کے زیر اثر بھی لوگ تھے۔جب اس نے یہ باتیں کہیں، مسیلمہ کے دعوی نبوت کا تو اتنا اثر نہیں تھا لیکن اس کی باتوں سے لوگوں نے اثر لینا شروع کر دیا۔اس کی گواہی کو سب نے تسلیم کیا اور نتیجہ مسیلمہ کی اطاعت کرلی اور اس سے کہا کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھو۔اگر وہ تمہاری بات نہ مانیں تو ہم پھر اس کے مقابلے میں تمہاری مدد کریں گے۔ان کی طرف سے یہ بغاوت کا اعلان ہی ں کے مقابلے دراصل جنگ کی اصل وجہ تھی۔جب مسیلمہ کو معلوم ہوا کہ حضرت خالد قریب آگئے ہیں، اس جنگ کا جو واقعہ بیان کیا جارہا ہے، حضرت خالد کو بھیجنے کا، حضرت ابو بکر نے جو بھیجا تھا تو اب آگے یوں ذکر ملتا ہے کہ حضرت خالد کے متعلق جب معلوم ہوا کہ قریب آگئے ہیں تو اس نے عُقْرَ با مقام پر اپنا پڑاؤ ڈالا اور لوگوں کو اپنی مدد کے لیے بلایا۔لوگ بہت بڑی تعداد میں اس کی طرف آنے لگے۔اسی دوران مجاعه بن مُرارہ ایک گروہ کے ساتھ باہر نکلا تو مسلمانوں نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو پکڑ لیا۔حضرت خالد نے اس کے ساتھیوں کو قتل کر دیا اور مجاعہ کو زندہ رکھا۔یہ جنگ کے لیے نکلے تھے کیونکہ قبیلہ بنو حنیفہ میں اس کی بہت عزت ہوتی تھی۔ان کے لیڈر کو نہیں مارا، قیدی بنالیا۔مسیلمہ کے بیٹے شر خبیل نے بنو حنیفہ کو انگیخت کرتے ہوئے کہا کہ آج حمیت دکھانے کا دن ہے۔جب اس کو پکڑا گیا تو مسیلمہ کے بیٹے نے ان کے اس قبیلے کو انگیخت کرائی کہ اگر آج تم نے شکست کھائی تو تمہاری عور تیں لونڈیاں بنالی جائیں گی اور بغیر نکاح کے ان سے نفع اٹھایا جائے گا لہذا آج تم اپنی عزت اور آبرو کی حفاظت کے لیے پوری جواں مردی دکھاؤ اور اپنی عورتوں کی حفاظت کرو۔بہر حال جنگ شروع ہوئی۔مہاجرین کا جھنڈا حضرت سالم مولی ابو حذیفہ کے پاس تھا جبکہ اس سے قبل وہ عبد اللہ بن حفص کے پاس تھا لیکن وہ شہید ہو گئے تھے اور انصار کا جھنڈا حضرت ثابت بن قیس کے پاس تھا۔گھمسان کی جنگ ہوئی اور وہ جنگ ایسی تھی کہ مسلمانوں کو اس سے پہلے ایسی جنگ کا کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔اس جنگ میں مسلمان پسپا ہو گئے اور بنو حنیفہ کے لوگ مُجاعہ کو چھڑانے کے لیے آگے بڑھے ، جس کو حضرت خالد نے قیدی بنایا تھا اور حضرت خالد بن ولید کے خیمہ کا قصد کیا، وہاں گئے اس طرف بڑھے۔اس وقت حضرت خالد کی بیوی خیمے میں تھی۔ان لوگوں نے حضرت خالد کی بیوی کو قتل کرنا چاہا تو مجاعہ نے کہا کہ میں نے اسے پناہ دی ہے، انہیں قتل کرنے سے روک دیا۔مجاعہ نے انہیں مردوں پر حملہ کرنے کا کہا اس پر وہ خیمے کو کاٹ کر چلے گئے۔جنگ پھر سخت ہو گئی اور قبائل بنو حنیفہ سب مل کر سخت حملہ کرنے لگے۔اس روز کبھی مسلمانوں کا پلڑا بھاری ہو تا کبھی کافروں کا۔اس جنگ میں حضرت سالم، حضرت ابو حذیفہ، حضرت زید بن خطاب جیسے معزز صحابہ کرام شہید ہوئے۔حضرت خالد نے جب مسلمانوں کی یہ حالت دیکھی تو انہوں نے ہر قبیلے کو الگ الگ ہونے کا حکم دیا تا کہ مصائب کا اندازہ لگایا جاسکے اور معلوم ہو سکے کہ کہاں سے مسلمانوں پر حملہ کیا جا رہا ہے۔اسی طرح جنگ میں صفوں کو الگ الگ درست کیا تو مسلمان ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ آج کے دن ہم کو فرار کرنے میں شرم محسوس ہو