خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 491
خطبات مسرور جلد 17 491 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 ستمبر 2019 اس جنگ کی کچھ تفصیل اس طرح سے ہے، ایک دفعہ پہلے بھی کچھ میں تھوڑا سا مختصر بیان کر چکا ہوں۔جنگ یمامہ حضرت ابو بکر کے دورِ خلافت میں 11 ہجری میں ہوئی تھی۔بعض مورخین کے مطابق 12 1 ہجری میں ہوئی تھی۔یہ جنگ مسیلمہ کذاب کے خلاف یمامہ کے مقام پر لڑی گئی تھی۔حضرت ابو بکر نے حضرت عکرمہ بن ابو جہل کی سر کردگی میں ایک لشکر مسلمہ کے مقابلے کے لیے بھیجا۔ان کے پیچھے ان کی مدد کے لیے حضرت شر خبیل بن حسنہ کی سرکردگی میں ایک لشکر روانہ کیا۔حضرت عکرمہ نے حضرت شر خبیل کے پہنچنے سے پہلے ہی مسلمہ سے لڑائی شروع کر دی تا کہ کامیابی کا سہرا ان کے سر ہو لیکن مسیلمہ سے انہیں شکست ہوئی۔اس واقعے کی اطلاع جب حضرت شُر خبیل کو ملی تو وہ راستے میں رک گئے۔حضرت عکرمہ نے اپنی سرگذشت حضرت ابو بکر کو لکھی تو حضرت ابو بکڑ نے انہیں لکھا کہ نہ تم مجھے اس حالت میں ملو اور نہ میں تمہیں دیکھوں اور نہ مدینے واپس آؤ جس سے لوگوں میں بزدلی پیدا ہو بلکہ اپنے لشکر کو لے کر اہل عمان اور مھرہ کے باغیوں کے ساتھ جا کر لڑائی کرو۔اس کے بعد یمن اور حضر موت میں باغیوں کے ساتھ جاکر لڑو۔حضرت ابو بکر نے حضرت شر خبیل کو لکھا کہ تم حضرت خالد بن ولیڈ کے آنے تک اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔حضرت ابو بکر نے حضرت خالد کو مسیلمہ کذاب کے مقابلے کے لیے روانہ کیا اور ان کے ساتھ مہاجرین اور انصار کی ایک بڑی جماعت روانہ فرمائی۔انصار کی جماعت کے سردار حضرت ثابت بن قیس اور مہاجرین کے سردار حضرت ابو حذیفہ اور حضرت زید بن خطاب تھے۔حضرت شر خبیل نے حضرت خالد کے آنے سے پہلے مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ شروع کر دی اور پسپا ہو گئے۔حضرت ابو بکر نے حضرت خالد کے لیے حضرت سلیط کی قیادت میں مزید کمک روانہ کر دی تا کہ پیچھے سے کوئی ان پر حملہ نہ کر سکے۔حضرت ابو بکر فرمایا کرتے تھے کہ میں نہیں چاہتا کہ میں بدری صحابہ کو استعمال کروں۔میں انہیں اس حال میں چھوڑ نا پسند کرتا ہوں کہ وہ اپنے صالح اعمال کے ساتھ اللہ سے ملاقات کریں۔اللہ تعالیٰ ان کی برکت سے اور نیک لوگوں کی برکت سے اس سے زیادہ افضل طور پر مصائب کو رفع کر دیتا ہے بجائے اس کے کہ ان سے عملی طور پر مدد لی جائے لیکن بہر حال مجبوریوں کی وجہ سے شامل بھی ہوئے تھے لیکن حضرت عمرؓ کی رائے اس کے برعکس تھی وہ بدری صحابہ کو لشکر وغیرہ میں استعمال فرمالیا کرتے تھے۔بہر حال اس جنگ میں مسلمانوں کے لشکر کی تعداد تیرہ ہزار تھی جبکہ مسیلمہ کے لشکر کی تعداد چالیس ہزار بیان کی جاتی ہے۔مسیلمہ کذاب کے ساتھ ایک شخص نَهَارُ الرِّجال بن عُنْفُوَہ تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، وہاں قرآن کریم اور دین کے مسائل سیکھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اہل یمامہ کی طرف معلم بنا کر بھیجا تا کہ وہ مسیلمہ کذاب کے دعوی نبوت کی تردید کرے۔وہاں جا کر یہ شخص مرتد ہو گیا اور اس بات کی شہادت دی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، جھوٹی گواہی ایک دے دی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مسیلمہ کو میرے ساتھ نبوت میں نعوذ باللہ شریک کر دیا گیا ہے۔بہر حال جب یہ مرتد ہوتے ہیں پہلے بھی اور آج بھی اسی طرح غلط الزام اور جھوٹی باتیں منسوب کرنا