خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 490
خطبات مسرور جلد 17 490 38 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 ستمبر 2019 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 20 ستمبر 2019ء بمطابق 20/ تبوک 1398 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، سرے (یوکے) تشہد و تعوذ اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بدری صحابہ کے ذکر میں سے آج جن کے ذکر سے شروع کروں گا وہ ہیں حضرت یزید بن رقیش۔حضرت یزید کا تعلق قبیلہ قریش کے خاندان بنو اسد بن خزیمہ سے تھا اور حضرت یزید بنو عبد شمس کے حلیف تھے۔السيرة النبوية لابن هشام صفحه 460 ، باب من حضر بدراً من المسلمين دار الكتب العلميه بيروت 2001ء) بعض نے ان کا نام از بد بھی بیان کیا ہے لیکن یہ درست نہیں۔(اسدالغابه في معرفة الصحابه لا بن اثیر جلد 5 صفحه 452 ، يزيد بن رُقيش ، دار الكتب العلميه بيروت 2008ء) حضرت یزید کے والد کا نام رقیش بن رئاب تھا اور ان کی کنیت ابو خالد تھی۔حضرت یزید غزوہ بدر، احد اور خندق سمیت تمام دیگر غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم راہ شریک ہوئے۔حضرت یزید نے غزوہ بدر میں طی ، قبیلے کے ایک شخص عمرو بن سفیان کو قتل کیا تھا۔(الطبقات الكبرى لابن سعد الجزء الثالث صفحه 50 ، يزيد بن رُقيش، داراحياء التراث العربي 1996ء) (السيرة النبوية لابن هشام صفحه 480 ، باب من قتل ببدر من المشركين دار الكتب العلميه بيروت 2001ء) حضرت یزید کے ایک بھائی کا نام حضرت سعید بن رقیں تھا جنہوں نے اپنے اہل و عیال کے ہم راہ مکے سے مدینے کی طرف ہجرت کی، جن کا شمار اولین مہاجرین میں ہوتا ہے۔(اسدالغابه في معرفة الصحابه لا بن اثیر جلد 2 صفحه 475 ، سعيد بن رُقيش، دار الكتب العلميه بيروت 2008ء) حضرت یزید کے ایک بھائی کا نام حضرت عبد الرحمن بن رقیش تھا جو غزوہ احد میں شریک ہوئے تھے۔(الطبقات الكبرى لابن سعد الجزء الرابع صفحه 370، عبدالرحمن بن رُقيش، داراحیاء التراث العربي 1996ء) حضرت یزید کی ایک بہن کا نام حضرت آمنہ بنت رقیش تھا جنہوں نے شروع میں ہی ملتے میں اسلام قبول کر لیا تھا اور انہوں نے بھی اپنے اہل و عیال کے ساتھ مدینے کی طرف ہجرت کی تھی۔(الطبقات الكبرى لا بن سعد الجزء الثامن صفحه 371 ، آمنه بنت ،رُقیش داراحیاء التراث العربي 1996ء) حضرت یزید جنگ یمامہ کے روز 12 ہجری میں شہید ہوئے تھے۔الطبقات الكبرى لابن۔سعد الجزء الثالث صفحه 50 ، يزيد بن رُقيش، داراحياء التراث العربي 1996ء)