خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 488
خطبات مسرور جلد 17 488 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 ستمبر 2019 40 سال کی عمر سے تجاوز کرنے کے باوجود انہوں نے بہت محنت کر کے پڑھنا لکھنا سیکھا۔ان کی زندگی میں سب سے اہم کام نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا تھا۔اسی طرح بہت زیادہ روزے بھی رکھا کرتی تھیں اور اکثر کہا کرتی تھیں کہ میں ان لوگوں کے نام پر روزے رکھتی ہوں جو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں پاتے۔دوسروں کی مدد کرنے کا اس قدر شوق تھا کہ عراق میں بعض اوقات والدہ صاحبہ پچاس میل کا سفر کر کے ان عورتوں کے ساتھ ہسپتال جاتیں جن کا علاج کروانے والا کوئی نہ ہو تا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی مالی مدد بھی کیا کرتی تھیں۔کہتی ہیں کہ ان کی وفات پر مجھے مختلف قوموں سے تعلق رکھنے والے دسیوں افراد کے خطوط موصول ہوئے اور خصوصاً پاکستانی احمدی بہنوں نے روتے ہوئے اس بات کا اظہار کیا کہ والدہ صاحبہ ان سے خاص محبت کے رشتے میں بندھی ہوئی تھیں۔کہتی ہیں جب سے میں پیدا ہوئی والدہ کے ساتھ ہی رہی اور ان کے اعلیٰ اخلاق اور نیک سیرت کو دیکھنے کا موقع ملا۔کبھی کسی کے بارے میں کوئی منفی بات دل میں نہیں رکھتی تھیں۔بڑی سے بڑی غلطی کو معاف کرنے کے لیے تیار رہتی تھیں۔ہمیں بچپن سے ہی یہ اصول سکھایا کرتی تھیں کہ سچ کہو خواہ تمہارے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔نیز یہ کہا کرتی تھیں کہ اگر تمہاری آنکھ یا تمہارے ہاتھ نے کوئی غلطی کی ہے تو تم میں اتنی جرآت تو ہونی چاہیے کہ اپنی آنکھ یا ہاتھ کو خطا کار کہہ سکو۔ہر کسی سے مسکراتے چہرے کے ساتھ ملتیں۔ان کی زبان ہر وقت دعاؤں سے تر رہتی تھی۔انہیں اللہ تعالیٰ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق تھا اور کہتی ہیں کہ شاید یہی وجہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے مسیح الزمان کی بیعت کی توفیق عطا فرمائی۔بیٹی یہ لکھ رہی ہیں 2007ء میں مجھے اچانک ایم ٹی اے ملا۔پھر غائب ہو گیا۔بڑی تلاش کے بعد کئی سال تک نہیں ملا۔ایک دن تین سال کے بعد 2010ء میں پھر ایم ٹی اے العربیہ دوبارہ مل گیا تو میں نے گھر میں شور مچایا، والدہ صاحبہ کو بلایا کہ چینل مل گیا ہے اور پھر یہی کہا کہ اسی چینل کی مجھے گذشتہ تین سال سے تلاش تھی تو والدہ صاحبہ کو میں نے کہا کہ آئیں اور سنیں کیونکہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ امام مہدی اور مسیح موعود ظاہر ہو چکے ہیں جس کا ہم انتظار کر رہے تھے اور ہمارے والد صاحب بھی یہی بتایا کرتے تھے۔کہتی ہیں میری والدہ نے بھی میرے ساتھ ایم ٹی اے دیکھنا شروع کیا۔کچھ دنوں کے بعد میری والدہ صاحبہ نے میرے بہن بھائیوں کو اس واقعہ کے بارے میں بتایا لیکن ان کی طرف سے ایسی باتیں کہی گئیں جنہیں سن کر والدہ صاحبہ کے چہرے کا رنگ یک دم بدل گیا لیکن ان کی باتوں کی پروا کیے بغیر وہ مسلسل ایم ٹی اے دیکھتی رہیں۔پھر جب وہ کر دستان گئیں تو پھر کہتی ہیں میرے بھائیوں کی باتوں نے ان کے دل پر اثر کیا اور میرے خلاف ہو گئیں۔پھر دوبارہ میرے پاس آئیں پھر کہتی ہیں مجھے بھی ایم ٹی اے دیکھنے سے روکنے لگیں۔بہر حال کہتی ہیں جب میں نے بیعت کر لی تو مزید حالات خراب ہو گئے اور میری والدہ کو ان لوگوں نے کہا کہ تمہاری بیٹی کا فر ہو گئی ہے اور کہتی ہیں جب میرے بھائیوں کے پاس جاتیں تو میرے خلاف ہو جاتیں۔واپس آتیں تو پھر ایم ٹی اے دیکھنے لگ جاتیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قصائد انہیں بہت پسند تھے اور اکثر انہیں سن کر رونے لگ جاتی تھیں۔ایک روز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ قصیدہ کہ