خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 487 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 487

خطبات مسرور جلد 17 487 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 ستمبر 2019 اور محمد مومن صاحب بطور معلم وقف جدید ربوہ میں خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔دو بیٹے داؤد ظفر صاحب اور زکریا صاحب بطور مربی سلسلہ اور ایک بیٹے آصف صاحب وقف تو ہیں یہ خلافت لائبریری میں کمپیوٹر سیکشن میں ہیں۔محمد زکریا صاحب اس وقت لائبیریا میں جیسا کہ میں نے بتایا مبلغ ہیں اور والدہ کی وفات پر وہ جنازے پر جا نہیں سکے، انہوں نے بھی بڑے اچھے صبر کا نمونہ دکھایا اور اپنی ڈیوٹی جو بیرونِ ملک تھی اس کو با قاعدگی سے انجام دیتے رہے اور کوئی اظہار اس طرح نہیں ہوا کہ میں کام نہیں کر سکتا، جا بھی نہیں سکے۔اللہ تعالیٰ ان کے بچوں کو بھی صبر اور حوصلہ عطا فرمائے خاص طور پر یہ بیٹے جو لائبیریا میں مبلغ سلسلہ ہیں اور وفات کے وقت اپنی والدہ کو مل نہیں سکے اور اللہ تعالیٰ ان سب بچوں کو ان کی والدہ کی نیکیوں کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ان کی والدہ کے درجات بلند فرمائے۔دوسرا جنازہ ہے محترم محمد شمشیر خان صاحب جو ناندی نجی کے صدر جماعت تھے۔ان کی بھی 15 ستمبر کو وفات ہوئی تھی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُونَ۔1952ء کی ان کی پیدائش تھی اور 1962ء میں اپنے مرحوم والد کے ساتھ لاہوری جماعت سے بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوئے تھے۔پہلے یہ پیغامی تھے۔مجھی میں پیغامی یالا ہوری جماعت کے بہت سے افراد ہیں۔بہر حال اپنے والد کے ساتھ انہوں نے بیعت کی۔1962ء میں احمد کی ہوئے، غیر مبائع تھے ، بیعت کر کے یہ خلافت کی بیعت میں آئے۔اسی طرح آپ جماعت نبی کے ابتدائی ممبران میں سے تھے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے لمبا عرصہ جماعتی خدمت کی توفیق ملی۔جماعت احمد یہ مارو(Man)، سووا (Suva)، ناندی(Nadi) اور لٹو کا (Lautoka) میں مساجد بنانے میں آپ کا اہم کردار تھا۔2010ء سے وفات تک بطور صدر جماعت ناندی خدمت کی توفیق پائی۔لمبا عرصہ نیشنل سیکرٹری اشاعت کے طور پر خدمت بجالاتے رہے۔دنیاوی لحاظ سے بھی آپ کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا لیکن جماعتی کام ہر کام پر مقدم ہوتے تھے۔علاوہ صدر جماعت اور نیشنل سیکر ٹری اشاعت کے آپ احمد یہ مسلم پرائمری سکول لٹو کا کے مینیجر بھی تھے۔انتہائی مخلص اور خلافت کے عاشق اور انتہائی اطاعت گزار انسان تھے۔پسماندگان میں اہلیہ راضیہ خان صاحبہ اور ایک بیٹی نادیہ نفیسہ شامل ہیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور ان بچوں کو بھی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔تیسر اجنازہ ہے مکرمہ فاطمہ محمد مصطفیٰ صاحبہ کردستان حال ناروے کا۔ان کی وفات 13 / جون کو ہوئی تھی لیکن کو ائف تھوڑے لیٹ پہنچے ہیں اس لیے دیر سے جنازہ پڑھایا جارہا ہے۔88 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی تھی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔انہوں نے 2014ء میں بیعت کی توفیق پائی۔ان کے پسماندگان میں تین بیٹیاں اور پانچ بیٹے شامل ہیں جن میں صرف ایک بیٹی مکرمہ بیر یفان محمد سعید صاحبہ احمدی ہیں اور اس وقت ناروے میں مقیم ہیں۔یہ بیٹی کہتی ہیں کہ میں 1999ء میں ناروے آئی جہاں مجھے بہت زیادہ مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا۔اس لیے میری والدہ مدد کرنے کے لیے کردستان سے ناروے شفٹ ہو گئیں۔والدہ صاحبہ اگر چہ آن پڑھ تھیں لیکن انہیں قرآن کریم کی بہت سی آیات اور بہت سی احادیث زبانی یاد تھیں۔پڑھنے لکھنے کا شوق اس قدر تھا کہ