خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 486
خطبات مسرور جلد 17 486 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 ستمبر 2019 ہوئی تھی جبکہ دوسرے قول کے مطابق ان کی وفات حضرت عثمان کے دورِ خلافت میں ہوئی تھی۔(الاصابه في تمييز الصحابه جلد 2 صفحه 224 خُبيب بن اساف ، دار الکتب العلميه بيروت 2005ء)(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 276 ومن بنى جشم۔خُبيب بن يساف داراحياء التراث العربي بيروت لبنان 1996ء) بہر حال اللہ تعالیٰ ان صحابہ کے درجات بلند فرماتا چلا جائے۔اب میں تین وفات شدگان کا بھی ذکر کروں گا اور ان کی نماز جنازہ بھی نمازوں کے بعد پڑھاؤں گا۔ان میں سے پہلا ذ کر محترمہ رشیدہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم سید محمد سرور صاحب ربوہ کا ہے جو 24 اگست کو 174 سال کی عمر میں بقضائے الہی وفات پا گئیں۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔ان کے آباؤ اجداد چار کوٹ کشمیر سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے اور آپ کے والد محترم دین محمد صاحب ریلوے میں ملازم تھے جو آپ کی عمر جب پانچ سال تھی تو وفات پاگئے تھے۔اس کے بعد ان کی والدہ محترمہ نے اکیلے ہی بڑی محنت اور مشقت سے اپنے بچوں کو پالا۔مرحومہ کے خاندان میں احمدیت کا نفوذان کے دادا مکرم فتح محمد صاحب کے ذریعے ہو اتھا جنہوں نے قادیان جاکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت قاضی محمد اکبر صاحب کے ذریعے بیعت کی سعادت پائی تھی۔قاضی صاحب نے 1894ء میں چاند اور سورج گرہن کا نشان دیکھ کر اپنے علاقے اور خاندان کے لوگوں کو بتایا تھا کہ اس نشان سے پتا لگا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ہو چکا ہے۔حضرت قاضی محمد اکبر صاحب کے ساتھ اس خاندان کے خاندانی مراسم تھے اور رشتہ داری بھی تھی اور اس لحاظ سے پھر ان کے ذریعہ سے ان تک احمدیت کا پیغام بھی پہنچا اور بیعت بھی ہوئی۔ان کے ایک بیٹے محمد زکریا صاحب لائبیریا میں مبلغ ہیں وہ کہتے ہیں کہ میری والدہ چندوں کو بڑی باقاعدگی سے ادا کرتی تھیں اور بڑی فکر رہتی تھی اور پوچھتی رہتی تھیں کہ میر اچندہ ادا ہو گیا ہے کہ نہیں اور پھر اس کے علاوہ بچوں کی تربیت کے معاملے میں بھی بڑی فکر تھی، بہت توجہ دیتی تھیں۔بچوں کو غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نہیں نکلنے دیتی تھیں تاکہ بچوں کو آوارگی کی عادت نہ پڑ جائے یا باہر جا کر کوئی خراب عادت نہ سیکھ لیں۔کہتے ہیں کہ جب بچپن میں والد صاحب ہم بھائیوں کو مسجد میں جا کر باجماعت نماز ادا کرنے کے لیے کہتے اور خاص طور پر جب نماز فجر کے لیے ہمیں جگاتے تو والدہ بچوں کو مسجد بھیجنے کے لیے بڑا اہم کردار ادا کرتی تھیں اور جب تک ہم مسجد چلے نہیں جاتے تھے چین سے نہیں بیٹھتی تھیں۔خلافت کے ساتھ بڑی محبت، وفا اور پیار کا ان کا تعلق تھا۔بڑی توجہ سے خطبات سنتی تھیں اور اس کے پوائنٹس نوٹ کرتی تھیں، نکات نکالتی تھیں اور پھر اپنے بچوں سے ڈسکس (discuss) کرتی تھیں۔پھر مرحومہ کی جو بڑی بیٹی ہیں انہوں نے بتایا کہ آخری وقت میں بھی نماز کی طرف بڑی توجہ تھی اور بڑی لمبی نماز انہوں نے پڑھی۔کوئی احساس نہیں ہونے دیا۔نماز پڑھنے کے فورابعد ہی ان کی طبیعت خراب ہوئی۔ہسپتال لے کے گئے لیکن وہاں ہارٹ اٹیک کی وجہ سے، دل کی حرکت بند ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو پیاری ہو گئیں۔اللہ کے فضل سے 1/8 حصے کی موصیہ تھیں۔ان کے پانچ بیٹوں کو بطور واقفین زندگی دین کی خدمت کی توفیق مل رہی ہے۔دو بیٹے محمد محسن تبسم