خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 485
خطبات مسرور جلد 17 485 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 ستمبر 2019 تک لگتا ہے حضرت عبد الرحمن کی اور امیہ کی بات ہو گئی تھی تو بہر حال کہتے ہیں مجھے شک ہوا میں نے انہیں کہا کہ میں تمہیں قیدی بناتا ہوں۔اس لیے میں نے امیہ کے بیٹے کو ، دونوں کو پکڑ تو لیا لیکن جب یہ مسلمان حملہ آور حضرت بلال کے ساتھ آئے تو کہتے ہیں میں نے امیہ کے بیٹے کو اس کی خاطر پیچھے چھوڑ دیا، وہاں رکھ دیا تا کہ وہ حملہ اور اس کے ساتھ نبرد آزمار ہیں۔اس سے ہی لڑائی کرتے رہیں۔اس کی لڑائی میں مشغول ہو جائیں اس کے ساتھ اور ہم آگے نکل جائیں۔چنانچہ انہوں نے اسے مار ڈالا۔امیہ کے بیٹے کو ان لوگوں نے مار ڈالا۔پھر یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ہمارا پیچھا کیا اور میرا یہ داؤ کار گر نہ ہونے دیا کہ میں امیہ کو بچالوں۔امیہ چونکہ بھاری بھر کم آدمی تھا اس لیے جلدی اِدھر اُدھر نہ ہو سکا آخر جب انہوں نے ہمیں پالیا تو میں نے امیہ سے کہا کہ بیٹھ جاؤ تو وہ بیٹھ گیا۔میں نے اپنے آپ کو اس پر ڈال دیا کہ اسے بچاؤں تو انہوں نے میرے نیچے سے اس کے بدن میں تلواریں گھونپیں یہاں تک کہ اسے مار ڈالا۔ان میں سے ایک نے اپنی تلوار سے میرے پاؤں پر بھی زخم کر دیا۔راوی ابراہیم کہتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف ہمیں اپنے پاؤں کی پشت پر وہ نشان دکھایا کرتے تھے جو اس وجہ سے ہو ا تھا۔(صحيح البخارى كتاب الوكالة باب اذا وكل المسلم حربیافی دار الحرب او في دار الاسلام جاز حدیث 2301) امیہ اور اس کے بیٹے کو کس نے قتل کیا ؟ اس بارے میں مشہور ہے کہ امیہ کو انصار کے قبیلہ بنو مازن کے ایک شخص نے قتل کیا تھا جبکہ ابن ہشام کہتے ہیں کہ امیہ کو حضرت معاذ بن عفراء، خَارِجہ بن زید اور حبیب بن اساف نے مل کر قتل کیا تھا۔جن صحابی کا ذکر ہو رہا ہے یہ بھی ان میں شامل تھے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت بلال نے اسے قتل کیا تھا تاہم اصل حقیقت یہ ہے کہ سب صحابہ امیہ کے قتل میں شریک تھے اور امیہ کے بیٹے علی کو حضرت بلال نے حملہ کر کے نیچے گرادیا تھا۔بعد میں اسے حضرت عمار بن یاسر نے قتل کیا تھا۔(شرح الزرقاني على المواهب اللدنية جزء 2 صفحه 296 باب غزوة بدر الكبرى دار الكتب العلمية بيروت 1996ء) بعض واقعات کی جو تفصیل ہے ان کا بر اور است اس صحابی سے تعلق نہیں ہو تا لیکن اس میں تو ذکر ہے بھی لیکن میں اس لیے ذکر کر دیتا ہوں تاکہ ہمیں تاریخ کا بھی کچھ علم ہو جائے۔حبیب بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ میرے دادا حضرت خبیب کو غزوہ بدر کے روز ایک زخم پہنچا تھا جس سے ان کی پہلی ٹوٹ گئی۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ پر اپنا لعاب مبارک لگایا اور اسے اس کی معین جگہ پر کر کے اس کو صحیح اور درست کر دیا جس کے نتیجے میں حضرت حبیب چلنے لگے۔ایک دوسری روایت میں یہ ذکر ہے کہ حضرت حبیب نے بیان کیا کہ ایک جنگ کے موقعے پر میرے کندھے پر ایک بہت گہر از خم لگا جو میرے پیٹ تک پہنچ گیا اور اس کے نتیجے میں میر اہاتھ لٹک گیا۔پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ اپنا لعاب مبارک لگایا اور اسے ساتھ جوڑ دیا جس کے نتیجے میں وہ بالکل صحیح ہو گیا اور میر از خم بھی ٹھیک ہو گیا۔(اسد الغابة في معرفة الصحابة جلد 3 صفحه 152، خُبيب بن إساف ، دارالکتب العلميه بيروت 2008ء) (البداية والنهاية لابن كثير جلد 3 جزء6 صفحه 166-167، سنه 11 هجری دار الكتب العلميه بيروت 2001ء) وفات کے متعلق ایک قول کے مطابق یہ ہے کہ حضرت خبیب کی وفات حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں