خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 484 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 484

خطبات مسرور جلد 17 484 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 ستمبر 2019 شکست تو ہو چکی تھی تو بچاؤ کی صورت یہ کہا کہ یہ حق ہے تو میں بہتر ہوں ان زرہوں سے کہ میرے لیے تم انتظام کرو۔میں نے انہیں کہا ٹھیک ہے۔پھر میں نے زر ہیں نیچے رکھ کر امیہ اور اس کے بیٹے علی کا ہاتھ پکڑ لیا۔امیہ - یہ کہنے لگے کہ میں نے زندگی بھر کبھی ایسا دن نہیں دیکھا جو آج بدر کے دن گزرا ہے۔پھر اس نے پوچھا کہ تم میں وہ شخص کون ہے جس کے سینے پر زرہ میں شتر مرغ کا پر لگا ہوا ہے۔میں نے کہا حمزہ بن عبد المطلب۔تو امیہ نے کہا کہ یہ سارا کیا دھرا اسی کا ہے۔ان کی وجہ سے ہماری یہ حالت ہوئی ہے۔بہر حال اس کے اپنے اندازے تھے۔ایک قول یہ ہے کہ یہ بات امیہ کے بیٹے نے کہی تھی۔بہر حال حضرت عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں ان دونوں کو لے کر چل رہا تھا۔ہاتھ پکڑ لیا چل پڑا کہ اچانک حضرت بلال نے امیہ کو میرے ساتھ دیکھ لیا۔سکتے میں امیہ حضرت بلال کو اسلام سے پھیرنے کے لیے بڑا عذاب دیا کرتا تھا۔حضرت بلال امیہ کو دیکھتے ہی بولے کہ کافروں کا سردار امیہ بن خلف یہاں ہے۔اگر یہ بچ گیا تو سمجھو میں نہیں بچا۔حضرت عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں کہ یہ سن کر میں نے کہا تم میرے قیدیوں کے بارے میں ایسا کہہ رہے ہو ؟ حضرت بلال نے بار بار یہی کہا کہ اگر یہ بچ گیا تو میں نہیں بچا اور میں بھی ہر بار ایسا ہی کہتا، بار بار اس کو یہی جواب دیتارہا۔پھر حضرت بلال بلند آواز سے چلائے کہ اے اللہ کے انصار ! یہ کافروں کا سر دار امیہ بن خلف ہے۔بڑی زور سے انہوں نے پکارا کہ اے اللہ کے انصار ! یہ کافروں کا سردار امیہ بن خلف ہے اگر یہ بچ گیاتو سمجھو میں نہیں بچا اور بار بار ایسا کہا۔حضرت عبد الرحمن" کہتے ہیں کہ یہ سن کر انصاری دوڑ پڑے اور انہوں نے ہمیں چاروں طرف سے گھیر لیا۔پھر حضرت بلال نے تلوار سونت کر اُمیہ کے بیٹے پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں وہ نیچے گر گیا۔اُمیہ نے اس پر خوف کی وجہ سے ایسی بھیانک چیخ ماری کہ ایسی چیخ میں نے کبھی نہیں سنی۔اس کے بعد انصاریوں نے ان دونوں کو تلواروں کے وار سے کاٹ ڈالا۔(ماخوذ ازالسيرة الحلبيه جلد 2 صفحه 232- 233 باب ذكر مغازیم له غزوة بدر الكبرى، دارالکتب العلميه بیروت 2002ء) صحیح بخاری میں اُمیہ کے قتل کا واقعہ اس طرح مذکور ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اُمیہ بن خلف کو خط لکھا کہ وہ سگے میں ، جو اس وقت دار الحرب تھا، میرے مال اور بال بچوں کی حفاظت کرے اور میں اس کے مال و اسباب کی مدینہ میں حفاظت کروں گا۔جب میں نے اپنا نام عبد الرحمن لکھا تو امیہ نے کہا کہ میں عبد الرحمن کو نہیں جانتا۔تم مجھے اپنا وہ نام لکھو جو جاہلیت میں تھا۔اس پر میں نے اپنا نام عبد عمر و لکھا۔جب وہ بدر کی جنگ میں تھا تو میں ایک پہاڑی کی طرف نکل گیا جب کہ لوگ سورہے تھے تاکہ میں اس کی حفاظت کروں یعنی حفاظت کی نیت سے ادھر گئے کہ دشمن کہیں ادھر سے حملہ نہ کرے تو بلال نے اس وقت امید کو وہاں کہیں دیکھ لیا۔چنانچہ وہ گئے اور انصار کی ایک مجلس میں کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ یہ امیہ بن خلف ہے۔اگر بیچ نکلا تو میری خیر نہیں ہے۔اس پر بلال کے ساتھ کچھ لوگ ہمارے تعاقب میں نکلے۔میں ڈرا کہ وہ ہمیں پالیں گے۔وہاں اس وقت