خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 483 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 483

طبات مسرور جلد 17 483 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 ستمبر 2019 مسلمانوں میں سے تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ سے ہجرت سے قبل اسلام قبول کر چکے تھے۔اس وقت ان کے رشتے داروں نے انہیں اسلام سے پھیرنے کی کوشش کی جس میں وہ کامیاب ہو گئے۔اسلام قبول کیا تھا اور پھر اسلام سے پھر گئے اور پھر یہ لوگ کفر کی حالت میں مر گئے۔ان ہی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے کہ إِنَّ الَّذِينَ تَوَقُهُمُ الْمَلَئِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِيْمَ كُنْتُمْ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِيْنَ فِي الْأَرْضِ (النساء:98) یقینا وہ لوگ جن کو فرشتے اس حال میں وفات دیتے ہیں کہ وہ اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہیں وہ ان سے کہتے ہیں کہ تم کس حال میں رہے ؟ وہ جوابا کہتے ہیں کہ ہم تو وطن میں بہت کمزور بنادیے گئے تھے۔بہر حال کہتے ہیں کہ ایسے لوگوں میں عارث بن ربیعہ، ابو قیس بن فاکہ ، ابو قیس بن ولید ، عاص بن منبہ اور علی بن امیہ تھے۔علامہ نورالدین حلبی لکھتے ہیں کہ کتاب سیرت ہشامیہ میں لکھا ہے کہ ان لوگوں نے جب اسلام قبول کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے میں تھے۔پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے کی طرف ہجرت کی تو ان لوگوں کو ان کے آباء اور رشتے داروں نے کتے میں ہی روک لیا اور انہیں آزمائش میں ڈالا جس کے نتیجے میں یہ لوگ فتنے میں پڑگئے اور اسلام سے پھر گئے، اسلام چھوڑ دیا۔پھر وہ غزوہ بدر کے وقت اپنی قوم کے ساتھ نکلے اور یہ سب وہاں قتل ہوئے۔اس سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے پہلے اپنے دین سے نہیں پھرے تھے جبکہ پہلی روایت کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ملنے سے ہجرت کرنے سے قبل کفر کی طرف لوٹ چکے تھے۔بہر حال حضرت عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ میرے پاس کئی زرہیں تھیں جنہیں میں نے اٹھایا ہوا تھا۔اس وقت جنگ کا واقعہ بیان کر رہے ہیں کہ جب امیہ نے مجھے دیکھا تو مجھے میرے جاہلیت کے نام سے اے عبد عمرو ! کہہ کر پکارا۔میں نے اس کا جواب نہیں دیا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب میر انام عبد الرحمن رکھا تھا تو فرمایا تھا کہ کیا تم اس نام کو چھوڑ نا پسند کرو گے جو تمہارے باپ دادا نے رکھا تھا؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! تو امیہ نے کہا کہ میں تو رحمان کو نہیں جانتا۔جب امیہ نے مجھے میرے نام سے پکارا۔جب دوبارہ عبد الرحمن کہا تو پھر میں نے جواب دیا۔بہر حال بظاہر معلوم ہو تا ہے کہ جب امیہ نے انہیں ان کے پرانے نام سے پکارا تھا تو وہ سمجھ تو گئے تھے کہ اس کے مخاطب وہی ہیں مگر انہوں نے اس پکار پر اس لیے جواب نہیں دیا کہ پکارنے والے نے ان کو ایک بت کا بندہ کہہ کر پکارا تھا اور ساتھ ہی اس بات کا بھی بڑی حد تک امکان ہے کہ وہ سمجھے ہی نہ ہوں کہ کس کو پکارا گیا ہے کیونکہ وہ نام چھوڑے ہوئے کافی عرصہ ان کو ہو گیا تھا۔پھر جب امیہ نے انہیں ان کے موجودہ نام سے پکارا تو وہ سمجھ گئے کہ وہی مراد ہیں اور وہ جواب دے کر اس کی طرف متوجہ ہوئے۔تب امیہ نے ان سے کہا کہ اگر تم پر میرا کوئی حق ہے تو میں تمہارے لیے ان زر ہوں سے بہتر ہوں جو تیرے پاس ہیں۔پرانی دوستی تھی، دوستی کا حوالہ دیا۔کیونکہ اس وقت ایسی حالت تھی کہ ان کو