خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 33
خطبات مسرور جلد 17 33 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 جنوری 2019 اپنے اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکل پڑے ہیں۔اس لئے وہ ہر صبح حرة میدان تک جایا کرتے تھے اور وہاں آپ کا انتظار کرتے تھے یہاں تک کہ دو پہر کی گرمی انہیں لوٹا دیتی تھی۔یعنی دو پہر تک انتظار کرتے تھے، شدید سورج جب چڑھ جاتا تھا تو پھر گرمی کی وجہ سے واپس چلے جاتے تھے۔وہ اس انتظار میں تھے کہ کب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچیں۔کہتے ہیں ایک دن ان کا بہت دیر انتظار کرنے کے بعد جو کوٹے اور اپنے گھروں پر جب پہنچے تو ایک یہودی ایک محل پر کچھ دیکھنے کے لئے چڑھا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو دیکھ لیا جو سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے۔سراب ان سے آہستہ آہستہ ہٹ رہا تھا۔یعنی دور سے ایک ہیولہ نظر آتا تھا لیکن آہستہ آہستہ شکلیں واضح ہوتی گئیں۔یہودی سے رہا نہ گیا اور بے اختیار بلند آواز سے بول اٹھا۔اے عرب کے لوگو! مدینہ والوں کو آواز دی کہ یہ تمہار ا وہ سردار ہے جس کا تم انتظار کر رہے ہو۔پتہ تھا اس کو کہ مسلمان روزانہ ایک جگہ جاتے ہیں اور انتظار میں اکٹھے ہوتے ہیں۔یہ سنتے ہی مسلمان اٹھ کر اپنے ہتھیاروں کی طرف لپکے اور حرة کے میدان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا۔آپ انہیں ساتھ لئے ہوئے اپنی داہنی طرف مڑے اور بنی عمرو بن عوف کے محلہ میں ان کے ساتھ اترے اور یہ دو شنبہ یعنی سوموار کا دن تھا اور ربیع الاول کا مہینہ تھا۔حضرت ابو بکر لوگوں سے ملنے کے لئے کھڑے ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش بیٹھے رہے۔اور انصار میں سے وہ لوگ جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا تھا آئے اور حضرت ابو بکر کو سلام کرنے لگے یہاں تک کہ دھوپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑنے لگی۔یعنی کافی دیر ہو گئی۔دھوپ ذرا چڑھ گئی۔جو ذرا سا یہ تھاوہ پرے ہٹ گیا تو حضرت ابو بکر آئے اور انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی چادر سے سایہ کیا۔اس وقت لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو عمرو بن عوف کے محلے میں دس سے کچھ اوپر راتیں ٹھہرے اور وہ مسجد بنائی گئی جس کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی تھی اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔پھر آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور لوگ آپ کے ساتھ پیدل چلنے لگے اور وہ اونٹنی مدینہ میں وہاں جا کر بیٹھی جہاں اب مسجد نبوی ہے۔ان دنوں وہاں چند مسلمان نماز پڑھا کرتے تھے اور وہ سہیل اور سہل کے کھجوریں سکھانے کی جگہ تھی۔ایک کھلا میدان تھا جہاں یہ دولڑ کے اپنی فصل کی کھجوریں سکھایا کرتے تھے۔جو دو بچے تھے۔یہ بچے حضرت سعد بن زرارة کی پرورش میں تھے۔جب آپ کی اونٹنی نے آپ کو وہاں بٹھا دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اللہ نے چاہا تو یہیں ہماری قیام گاہ ہوگی۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دولڑکوں کو بلایا اور ان سے اس جگہ کی قیمت دریافت کی تا اسے مسجد بنائیں تو ان دونوں نے کہا نہیں یار سول اللہ ! ہم آپ کو یہ زمین مفت دیتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ زمین مفت لینے سے انکار کیا اور اسے ان سے خریدا اور پھر مسجد بنائی۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسجد کے بنانے کے لئے لوگوں کے ساتھ اینٹیں ڈھونے لگے اور جب اینٹیں ڈھو رہے تھے تو ساتھ ساتھ کہتے جاتے تھے: هذَا الْحِمَالُ لَا حِمَالَ خَيْبَر هُذَا ابَر رَبَّنَا وَاطْهَر