خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 482
طبات مسرور جلد 17 482 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 ستمبر 2019 حضرت حبیب بن اساف کے اسلام قبول کرنے اور غزوہ بدر میں شرکت کا ذکر کرتے ہوئے علامہ نور الدین حلبی اپنی کتاب سیر و حلبیہ میں بیان کرتے ہیں کہ مدینے میں حبیب بن پاف نامی ایک طاقت ور اور بہادر شخص تھا۔یہ حضرت حبیب بن اساف کا دوسرا نام ہے جو سیرت کی کتب میں لکھا ہوا ہے۔بہر حال یہ شخص قبیلہ خزرج کا تھا۔غزوہ بدر تک مسلمان نہیں ہوا تھا مگر یہ بھی اپنی قوم خزرج کے ساتھ جنگ جیتنے کی صورت میں مالِ غنیمت ملنے کی امید میں جنگ کے لیے روانہ ہوا۔مسلمان اس کے ساتھ نکلنے پر بہت خوش ہوئے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ ہمارے ساتھ صرف وہی جنگ میں جائے گا جو ہمارے دین پر ہے۔ایک اور روایت میں یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم واپس جاؤ ہم مشرک کی مدد نہیں لینا چاہتے۔حبیب کو یا حبیب کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مر تبہ واپس لوٹا دیا تھا۔تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کیا تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتا ہے ؟ اس نے کہاہاں اور اسلام قبول کر لیا۔پھر اس نے نہایت بہادری کے ساتھ زبر دست جنگ کی۔(السيرة الحلبيه الجزء الثانى صفحه 204 باب ذكر مغازیم له غزوة بدر الكبرى، دارالکتب العلميه بیروت 2002ء) مسند احمد بن حنبل میں حضرت حبیب اپنے اسلام قبول کرنے کے واقعہ کی تفصیلات یوں بیان کرتے ہیں کہ میں اور میری قوم کا ایک اور آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوے کی تیاری فرما رہے تھے اور ہم نے اس وقت اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ہم نے عرض کیا کہ یقینا ہمیں شرم آتی ہے کہ ہماری قوم تو جنگ کے لیے جا رہی ہو اور ہم اس میں ان کے ساتھ شامل نہ ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم دونوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ہم نے عرض کیا نہیں۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یقینا ہم مشرکوں کے خلاف مشرکوں کی مدد نہیں چاہیں گے۔مشرکوں کے خلاف جنگ ہو رہی ہے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے ہم مشرکوں سے ہی مدد لیں۔وہ کہتے ہیں یعنی حضرت حبیب کہتے ہیں کہ اس پر ہم نے اسلام قبول کر لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس غزوے میں شامل ہوئے۔میں نے اس جنگ میں ایک شخص کو قتل کیا اور اس نے بھی مجھے چوٹ پہنچائی۔پھر اس کے بعد جب میں نے اس مقتول شخص کی بیٹی سے شادی کر لی تو وہ کہا کرتی تھی کہ تم اس آدمی کو بھلانہ سکو گے جس نے تمہیں یہ زخم لگایا ہے۔اس پر میں کہتا تھا کہ تم بھی اس آدمی کو بھلا نہ پاؤ گی جس نے تمہارے باپ کو جلد آگ میں پہنچایا۔(مسند احمد بن حنبل جلد5صفحه 411 ، حدیث 15855 جدّ خُبيب ، عالم الكتب بيروت۔لبنان1998ء) غزوہ بدر میں حضرت خبیب بن اساف نے قریش مکہ کے سردار اُمیہ بن خلف کو قتل کیا تھا جس کا اختصار کے ساتھ مقتول کے نام کا تذکرہ کیے بغیر مسند احمد بن حنبل کی روایت میں تذکرہ ہوا ہے شادی والا واقعہ جو ہے۔اس واقعہ کا تفصیل کے ساتھ ذکر کرتے ہوئے علامہ نور الدین حلبی اپنی کتاب سیرۃ حلبیہ میں بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف سے روایت ہے کہ میدانِ بدر میں مجھے اُمیہ بن خلف ملا۔وہ جاہلیت کے زمانے میں میرا دوست تھا۔امیہ کے ساتھ اس کا بیٹا علی بھی تھا جس نے اپنے باپ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔یہ علی ان