خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 481
خطبات مسرور جلد 17 481 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 ستمبر 2019 غزوہ بدر کے علاوہ غزوہ احد، غزوہ خندق اور دیگر غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ شامل ہوئے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 276 ومن بنى جشم خُبيب بن يساف ، داراحياء التراث العربي بیروت لبنان 1996ء) ایک روایت کے مطابق حبیب کا مدینے میں پڑاؤ تھا لیکن اس کے باوجود انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر کے لیے روانہ ہو گئے۔تب یہ راستے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جاملے اور اسلام قبول کیا۔(اسد الغابه في معرفة الصحابة المجلد الثالث صفحه 152 حبیب بن اساف دار الكتب العلميه بيرون لبنان 2008ء) صحیح مسلم میں حضرت حبیب کے اسلام قبول کرنے کا ذکر یوں ملتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام المؤمنین حضرت عائشہ سے یہ روایت ہے۔وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی طرف نکلے۔جب آپ حرة الوبرة جو مدینے سے تین میل کے فاصلے پر ایک مقام ہے وہاں پہنچے تو آپ کو ایک شخص ملا جس کی جرات اور بہادری کا ذکر کیا جاتا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے جب اسے دیکھا تو بہت خوش ہوئے۔جب وہ آپ سے ملا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میں آپ کے ساتھ جانے اور آپ کے ساتھ مالِ غنیمت میں حصہ پانے کے لیے آیا ہوں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا۔تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہو ؟ اس نے کہا نہیں۔میں ایمان نہیں لاتا۔مسلمان نہیں ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ واپس چلے جاؤ کیونکہ میں کسی مشرک سے مدد نہیں لوں گا۔وہ فرماتی ہیں کہ وہ چلا گیا یہاں تک کہ پھر جب آپؐ شجرہ پہنچے جو ذوالحلیفہ، یہ مدینہ سے چھ سات میل کے فاصلے پر مقام ہے اور شجرۃ اس کے پاس ہی ایک مقام ہے۔بہر حال وہاں جب پہنچے تو وہ شخص پھر آپ کو ملا اور پھر ویسا ہی کہا جیسا پہلی مرتبہ کہا تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ویسے ہی فرمایا جیسے پہلے فرمایا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوٹ جاؤ۔میں کسی مشرک سے مدد نہیں لوں گا۔پھر وہ لوٹا اور آپ کو بیدا ، جو ہے ( ذُوالْحُلَيْفَه، مدینہ سے چھ یا سات میل کے فاصلے پر ایک اور مقام ہے۔شجرۃ اس کے پاس ہی ایک مقام ہے اور بیداء مقام بھی ادھر ہی ہے۔یہ دونوں جگہ قریب قریب ہیں بہر حال) پھر وہاں ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا جیسے پہلے فرمایا تھا کہ مشرک سے ہم مدد نہیں لیں گے اور پھر آپ نے فرمایا کہ کیا تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہو ؟ اس نے کہا جی ہاں۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا کہ چلو اب تم میرے ساتھ جاسکتے ہو۔۔۔۔۔۔۔(صحیح مسلم كتاب الجهاد باب كراهة الاستعانة في الغزو بكافر۔۔الخ حديث 1817) (معجم البلدان جلد3 صفحه 142۔اکمال المعلم بفوائد المسلم جزء 4 صفحه 181 كتاب الحج باب امر اهل المدينه۔دار الوفاء 1998ء) اس روایت کی شرح میں ذکر کیا گیا ہے کہ جس شخص کے اسلام قبول کرنے کا ذکر اس روایت میں کیا گیا ہے وہ حضرت خبیب تھے۔(البحر المحيط الثجاج فى شرح صحيح الامام مسلم بن الحجاج جلد 31 صفحه 620 مطبوعه دار ابن الجوزي رياض 1434 هجری)