خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 480 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 480

خطبات مسرور جلد 17 480 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 ستمبر 2019 اس چیز کے مالک کو اس کی قیمت ادا کرنے کا حکم فرماتے۔(ماخوذ از الفكاهة والمزاح از زبیر بن بکار صفحه 27، مطبوعه 2017ء) تو یہ عجیب پیار اور محبت اور مزاح کی مجلسیں ہوا کرتی تھیں۔یہ صرف خشک مجلسیں نہیں ہوتی تھیں۔دوسر اذ کر جو آج ہو گا وہ حضرت حبیب بن اساف کا ہے۔حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو خشم سے تھا اور حضرت حبیب کا نام ایک دوسرے قول کے مطابق حبیب بن پیساف بھی بیان ہوا ہے۔ان کے والد کا نام اساف ہے جبکہ ایک دوسرے قول کے مطابق پیساف بھی بیان ہوا ہے۔اسی طرح ان کے دادا کا نام عتبہ کے علاوہ عیبہ بھی بیان کیا جاتا ہے۔(السيرة النبوية لابن هشام صفحه 467 ، الانصار و من معهم من بنى جشم ، دارالکتب العلمية 2001ء)(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 275 ومن بنى جشم۔خُبيب بن يساف ، داراحياء التراث العربى بيروت لبنان 1996ء) (اسد الغابه جلد 1 صفحه 683 ب بن يساف مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) حضرت حبیب کی والدہ کا نام سلمیٰ بنت مسعود تھا۔ان کی اولاد میں سے ایک بیٹا ابو کثیر تھا جس کا نام عبد اللہ تھا جو جمیلہ بنت عبد اللہ بن اُبی بن سکول کے بطن سے پیدا ہوا تھا۔دوسرے بیٹے کا نام عبد الرحمن تھا جو ام ولد کے بطن سے پیدا ہوا تھا۔ایک بیٹی انیسہ تھی جو زینب بنت قیس کے بطن سے پیدا ہوئی تھی۔حضرت ابو بکر صدیق کی وفات کے بعد حضرت حبیب نے ان کی بیوہ یعنی حضرت ابو بکر کی بیوہ حبیبہ بنتِ خارجہ سے شادی کی تھی۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 275-276 ومن بنى جشم خُبيب بن يساف، داراحياء التراث العربي بیروت لبنان 1996ء)(اسد الغابه في معرفة الصحابه جلد 3 صفحه 153 خُبيب بن اساف دارالکتب العلميه بیروت لبنان 2008ء) حضرت حبیب بے شک ہجرتِ مدینہ کے وقت مسلمان نہ تھے لیکن پھر بھی انہیں ہجرت مدینہ کے وقت مہاجرین کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا تھا۔مسلمان نہیں تھے لیکن انہوں نے بڑی میزبانی کی، مہمان نوازی کی۔حضرت طلحہ بن عبد اللہ اور حضرت صہیب بن سنان ان کے گھر ٹھہرے۔البتہ ایک دوسرے قول کے مطابق حضرت طلحہ ، حضرت اسعد بن زرارہ کے گھر ٹھہرے تھے۔(السيرة النبويه لا بن هشام صفحه 338 ، منزل طلحه و صهيب دار الكتب العلمية بيروت 2001ء) اسی طرح حضرت ابو بکر صدیق نے جب مدینہ کی طرف ہجرت کی تو ایک روایت کے مطابق انہوں نے حضرت حبیب کے ہاں قبائیں سُنح کے مقام پر قیام کیا تھا۔یہ سُنع ایک جگہ کا نام ہے جو مدینے کے اطراف بلند دیہات میں ہے۔جہاں بنی حارث بن خزرج کے لوگ رہا کرتے تھے اس کو کہتے ہیں۔جبکہ دوسری روایت کے مطابق حضرت ابو بکر حضرت خَارِجہ بن زید کے گھر ٹھہرے تھے۔(السيرة النبويه لابن هشام صفحه 348 ، منزل ابى بكر بقباء، دار الكتب العلمية بيروت 2001ء۔لغات الحديث جلد2 صفحه 373 سنح)