خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 479 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 479

طبات مسرور جلد 17 479 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 ستمبر 2019 بہر حال دونوں کے بارے میں ہی یہ روایت آتی ہے۔حضرت نعیمان کے بارے میں یہ روایت بھی آتی ہے کہ ان کی طبیعت میں بھی مزاح پایا جاتا تھا۔چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی باتیں سن کر محظوظ ہوا کرتے تھے۔ربیعہ بن عثمان سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بدھو آیا اور مسجد میں داخل ہو کر اس نے اپنے اونٹ کو صحن میں بٹھادیا۔اس پر بعض صحابہ نے حضرت نعیمان سے کہا کہ اگر تم اس اونٹ کو ذبح کر دو تو ہم اسے کھائیں گے کیونکہ ہمیں گوشت کھانے کا بڑا دل کر رہا ہے۔اور بہر حال یہ بدو کا اونٹ ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب شکایت ہو گی تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا تاوان ادا کر دیں گے۔راوی کہتے ہیں کہ حضرت نعیمان نے ان کی باتوں میں آکے اونٹ ذبح کر دیا اور جب بد و باہر نکلا اور اپنی سواری کو اس حالت میں دیکھا و ا ر تو شور مچانے لگا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا اونٹ ذبح ہو گیا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا یہ کس نے کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا نعمان نے۔یہ کرنے کے بعد نعیمان وہاں سے چلے گئے۔کہیں جا کے چھپ گئے تو آپ ان کی تلاش میں نکلے۔بہر حال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی تلاش میں نکلے یہاں تک کہ انہیں حضرت ضُباعہ بنت زبیر بن عبد المطلب کے ہاں چھپا ہوا پایا۔جہاں وہ چھپے ہوئے تھے وہاں ایک شخص نے اپنی انگلی سے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اونچی آواز میں کہا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے کہیں نظر نہیں آ رہا۔بہر حال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وہاں سے نکالا اور فرمایا کہ یہ حرکت تم نے کیوں کی ہے ؟ تو نعیمان نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! جن لوگوں نے آپ کو میرے بارے میں خبر دی ہے کہ میں نے یہ ذبح کیا، انہوں نے ہی مجھے اس پہ اکسایا تھا۔انہوں نے ہی مجھے کہا تھا اور یہ بھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعد میں اس کا تاوان دے دیں گے ، قیمت ادا کر دیں گے۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن کے نعیمان کے چہرے کو چھوا، اپناہاتھ لگایا اور مسکرانے لگے اور آپ نے اس بدو کو اس اونٹ کی قیمت ادا کر دی۔(اسد الغابه في معرفة الصحابه جلد 4 صفحه 332 نُعَيْمَان بن عمر و دار الكتب العلميه بيروت لبنان 2008ء) (الفكاهة والمزاح از زبیر بن بکار صفحه 24-25 مطبوعه 2017ء) زبير بن بكار اپنی کتاب الْفُكَاهَة و المزاح میں حضرت نعمان کے متعلق ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مدینے میں جب بھی کوئی پھیری والا داخل ہوتا، باہر سے کوئی تاجر کوئی چیز لے کر آتا تو حضرت نعمان اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کوئی چیز خرید لیتے اور وہ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے اور یہ عرض کرتے کہ آپ کے لیے میری طرف سے تحفہ ہے۔جب اس چیز کا مالک حضرت نعیمان سے اس کی قیمت لینے کے لیے آتا۔وہاں پھر رہے ہوتے تھے۔بتا دیتے تھے کہ میں وہاں رہتا ہوں۔بعد میں قیمت بھی لے لیتے تھے۔واقف ہوتے تھے۔بہر حال جب وہ قیمت لینے آتا تو وہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آتے اور عرض کرتے کہ اسے اس کے مال کی قیمت ادا کر دیں۔یہ چیز جو میں نے خریدی تھی اور آپ کو دی تھی اس کی قیمت ادا کر دیں۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ کیا تم نے یہ چیز مجھے بطور تحفہ نہیں دی تھی تو وہ کہتے یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! میرے پاس اس چیز کی ادائیگی کے لیے کوئی رقم نہیں تھی تاہم میر اشوق تھا کہ اگر وہ کھانے کی چیز ہے تو آپ اسے کھائیں۔رکھنے کی چیز ہے تو آپ اسے رکھیں۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگتے اور