خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 478
خطبات مسرور جلد 17 الله 478 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 ستمبر 2019 طرف لے کر گئے تھے تو اس وقت بھی اسی جگہ پر قیام کیا تھا اور اس سفر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت خدیجہ کا غلام میسرہ بھی تھا۔بہر حال حضرت ابو بکر جب وفات سے ایک سال قبل تجارت کے لیے اس طرف گئے تو ان کے ساتھ نعیمان اور سوئیبط و بن حرملہ نے بھی سفر کیا اور یہ دونوں جنگ بدر میں بھی موجود تھے۔حضرت ابو بکر کے ساتھ اس سفر میں نعیمان زادِ راہ پر متعین تھے اور اسی سفر کا واقعہ ہے جب ان کے ساتھی نے حضرت نعیمان کو ایک قوم کے پاس مذاق مذاق میں فروخت کر دیا تھا۔یہ واقعہ میں حضرت سویی دل کے ضمن میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں۔بہر حال کچھ مختصر بیان کر دیتا ہوں۔سُوئیط ہے جو ان کے ساتھی تھے ان کی طبیعت میں مزاح تھا بلکہ بعض روایات سے پتا لگتا ہے کہ دونوں ہی، حضرت نعمان بھی اور حضرت سویبط والے بھی آپس میں بڑے بے تکلف تھے ، مذاق کیا کرتے تھے اور ان کی طبیعت میں مزاح تھا۔تو انہوں نے سفر کے دوران نعمان سے کہا کہ مجھے کھانا کھلاؤ۔انہوں نے جواب دیا کہ جب تک حضرت ابو بکر نہیں آئیں گے ، جو کہیں باہر گئے ہوئے تھے ، کھانا نہیں دوں گا۔سویبظ اللہ نے اس پر کہا کہ اگر تم نے مجھے کھانا نہ دیا تو پھر میں ایسی باتیں کروں گا جس پر تمہیں غصہ آئے۔راوی نے کہا کہ ان کا اس دوران ایک قوم کے پاس سے گزر ہوا تو سويبط وں نے ان سے کہا کہ کیا تم مجھ سے میرا ایک غلام خریدو گے۔بہر حال کچھ وقفے کے بعد چند دنوں کے بعد یا کچھ سفر میں چلتے چلتے ہی اس وقت یہ ذکر ہو گا۔تو اس قوم کو حضرت سوئیٹ نے کہا کہ میرے سے غلام خریدو گے۔قوم نے کہاہاں خریدیں گے تو سوئی نے اس پر ان کو کہا کہ وہ بڑا بولنے والا ہے اور یہی کہتا رہے گا کہ میں آزاد ہوں اور جب وہ تمہیں یہ بات کہے کہ تم اس کو چھوڑ دو تو پھر یہ نہ ہو کہ تم میرے غلام کو خراب کرنا۔انہوں نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ ہم اسے تجھ سے خریدنا چاہتے ہیں اور انہوں نے اسے دس اونٹنیوں کے عوض خرید لیا۔پھر وہ لوگ نعیمان کے پاس آئے اور ان کے گلے میں پگڑی یا رسی ڈالی تا کہ غلام بنا کے لے جائیں۔نعیمان ان سے بولے کہ یہ شخص تم سے مذاق کر رہا ہے میں تو آزاد ہوں۔غلام نہیں ہوں۔انہوں نے جواب دیا کہ اس نے تمہارے بارے میں پہلے ہی ہمیں بتا دیا تھا۔بہر حال وہ زبر دستی انہیں ساتھ لے گئے۔جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے اور لوگوں نے اس کے متعلق بتایا تو پھر آپ ان لوگوں کے پیچھے گئے ، اس قوم کے پیچھے گئے اور ان کو اونٹنیاں واپس دیں اور نعمان کو واپس لے آئے۔راوی نے بتایا کہ جب یہ لوگ واپس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو بتایا تو راوی کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ اس سے بہت محظوظ ہوئے۔بڑا ہنسے اور ایک سال تک ان میں یہ لطیفہ بنا رہا۔(سنن ابن ماجه کتاب الادب باب المزاح حديث 3719۔معجم البلدان جلد2 صفحہ 348 ”بصری“۔فرهنگ سیرت صفحه 58 ”بصری) بعض جگہ بعض کتابوں میں اس فرق کے ساتھ یہ واقعہ ملتا ہے کہ فروخت کرنے والے حضرت سوئیت نہیں تھے بلکہ حضرت نعمان تھے۔(اسد الغابه في معرفة الصحابه جلد 2 صفحه 354 سُوَيْبِط بن حرمله دارالفکر بيروت لبنان 2003ء)