خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 477 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 477

خطبات مسرور جلد 17 477 37 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 ستمبر 2019 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 13 ستمبر 2019ء بمطابق 13/ تبوک 1398 ہجری شمسی بر موقع اجتماع مجلس انصار الله ولجنہ اماءاللہ بر طانیہ (بمقام کنٹری مارکیٹ ، بورڈن، ہمیشر ، یوکے) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بدری صحابہ کے بیان کا جو سلسلہ میں نے شروع کیا ہو ا ہے وہی آج بھی بیان کروں گا لیکن اس سے پہلے انصار اللہ کو اجتماع کے حوالے سے یہ بھی بتادوں کہ وہ صحابہ جن میں انصار بھی تھے اور مہاجر بھی تھے انہوں نے جب اسلام قبول کیا تو اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کیں اور نہ صرف قربانیوں کے بلکہ تقوی کے اعلیٰ معیار کے اور اخلاص و وفا کے عجیب نمونے دکھائے۔آپ میں سے اکثر جو اس وقت یہاں موجود ہیں ، جو انصار اللہ کی عمر کے ہیں؛ وہ انصار بھی ہیں اور مہاجر بھی ہیں۔وہ اس لحاظ سے اپنے جائزے لیتے رہیں کہ ہمارے سامنے جو نمونے پیش کیے گئے تھے ان پر ہم کس حد تک چلنے والے اور عمل کرنے والے ہیں۔اس تمہید کے بعد اب میں مضمون شروع کرتا ہوں۔پہلا جو بیان ہے وہ حضرت نعیمان بن عمرو کا ہے جو ذکر کیا جائے گا۔حضرت نعمان کا نام نعمان بھی ملتا ہے اور نعیمان بھی۔اور ان کے والد کا نام عمر و بن رفاعہ اور والدہ کا نام فاطمہ بنت عمر و تھا۔حضرت نعیمان کی اولاد میں محمد ، عامر، سبزة، لُبَابَہ، کبشہ ، مریم اور اہم حبیب، آمَهُ اللہ اور حکیمہ کا ذکر ملتا ہے۔ابن اسحاق کے نزدیک حضرت نعیمان بیعت عقبہ ثانیہ میں ستر انصار کے ہم راہ شامل ہوئے تھے۔حضرت نعمان غزوہ بدر، احد، خندق اور باقی تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم راہ شریک رہے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نعیمان کے لیے سوائے خیر کے کچھ نہ کہو کیونکہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے۔حضرت نعیمان کی وفات حضرت امیر معاویہ کے دور حکومت میں 60 ہجری میں ہوئی تھی۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 257 وَمِنْ بَنِي غَنْمِ النعمان بن عمر و دار احياء التراث العربی بیروت لبنان 1996ء) (الكامل فى التاريخ جلد 3 صفحه 405 ذكر عدة حوادث سنة 60 ، دار الكتب العلميه بيروت لبنان 2006ء) حضرت ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے ایک سال قبل بھرا ہی جو ملک شام کا ایک قدیم اور مشہور شہر ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا کے ہمراہ شام کے تجارتی سفر کے دوران اسی شہر میں قیام کیا تھا اور اسی طرح جب حضرت خدیجہ کا سامان شام کی