خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 475
خطبات مسرور جلد 17 475 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 ستمبر 2019 بسا اوقات ساری رقم ہی چندے میں دے دیتے۔پس ماندگان میں تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔آپ کے بڑے بیٹے محمد صاحب اور چھوٹے بیٹے جلال الدین صاحب احمد کی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سے رحم اور مغفرت کا سلوک فرمائے۔درجات بلند کرے اور ان کی اولاد کے حق میں ان کی دعائیں بھی قبول فرمائے اور باقی اولاد کو بھی حق پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے۔دوسرا جنازہ مکرم الطيب العبیدی صاحب تیونس کا ہے۔26 جون کو 70 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ۔یہ اپنے علاقے میں اکیلے احمدی تھے نہایت مخلص اور جماعت اور امام وقت سے بہت محبت کرنے والے، خلافت سے محبت کرنے والے۔اپنی ساری عمر تقریباً مساجد میں گزاری۔قرآن کے عاشق تھے۔بہت زیادہ ذکر الہی کرنے والے انسان تھے۔جماعت کا تعارف ہونے پر بغیر دیر کیے مرکز پہنچے اور فوراً بیعت کر لی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے کلام کے عاشق تھے۔جمعہ کی ادائیگی کے لیے تقریباً پانچ گھنٹے ریل گاڑی کا سفر کر کے مرکز میں پہنچتے تھے۔بہت بہادر انسان تھے۔جس سے بھی ملتے احمدیت کا تعارف کرواتے۔اپنے خاندان اور معاشرے کی طرف سے ان پر بڑا دباؤ تھا لیکن یہ اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے۔بیعت کے پہلے دن ہی دل کھول کر چندہ دینا شروع کر دیا۔جب انہیں نظام وصیت کا علم ہوا تو انہوں نے فور وصیت کر لی۔نوجوانوں کو انفاق فی سبیل اللہ کی بہت تلقین کرتے تھے اور کہتے تھے کہ انفاق فی سبیل اللہ کی برکت سے میرے مال میں بہت برکت پڑی ہے۔مرحوم کو حج بیت اللہ کی بھی توفیق ملی۔جماعت اور خلافت کے آپ عاشق تھے۔اللہ تعالیٰ ان سے بھی رحم اور مغفرت کا سلوک فرمائے۔ان کی دعائیں اور نیک تمنائیں ان کی اولاد کے حق میں اور قریبیوں کے حق میں قبول فرمائے۔تیسر اجنازہ مکرمہ محترمہ امۃ الشکور صاحبہ کا ہے جو حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی بیٹی تھیں۔13 ستمبر کو ان کی وفات 79 سال کی عمر میں ہوئی ہے۔اِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ۔آپ جیسا کہ میں نے بتایا حضرت خلیفة المسیح الثالث کی بیٹی تھیں۔اس لحاظ سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پوتی تھیں اور ننھیال کی طرف سے حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ اور حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی نواسی تھیں۔اپریل 40ء میں قادیان میں پیدا ہوئیں۔ابتدائی تعلیم قادیان سے حاصل کی۔پھر بی۔ایڈ لاہور سے کیا۔ان کی دو شادیاں تھیں۔ان کی پہلی شادی جو نواب عبد اللہ خان صاحب کے بیٹے شاہد خان صاحب سے ہوئی تھی ان سے ان کی اولاد ہے جن میں دولڑ کے اور تین بیٹیاں ہیں۔ان کے ایک بیٹے عامر احمد خان واقف زندگی ہیں اور تحریک جدید میں اس وقت کام کر رہے ہیں۔ان کے دو نو اسے بھی اس وقت جامعہ میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔دوسری شادی ان کی ڈاکٹر مرزا لئیق صاحب سے ہوئی تھی۔ان سے کوئی اولاد نہیں ہے۔ان کو بڑی جماعتی خدمات تو نہیں لیکن عمومی طور پر مختلف رنگ میں ان کو مختلف جماعتی اداروں میں پالجنہ کے شعبوں میں کام کرنے کی توفیق ملی اور ہر ایک لکھنے والے نے یہی لکھا ہے کہ بڑے تعاون سے اور بڑی عاجزی سے یہ ہمارے ساتھ کام کرتی تھیں۔لکھنے پڑھنے کا بھی ان کو شوق تھا تو انہوں نے حضرت اماں جان کی سیرت بھی