خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 474
خطبات مسرور جلد 17 474 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 ستمبر 2019 اختیارات ملتے ہیں تب۔صن بیتی روایت کرتے ہیں کہ میں حضرت عبادہ بن صامت کے پاس گیا جبکہ وہ موت کے قریب تھے۔میں رو پڑا تو انہوں نے کہا ٹھہرو کیوں رو ر ہے ہو ؟ خدا کی قسم! اگر مجھ سے گواہی طلب کی جائے تو میں تمہارے حق میں گواہی دوں گا اور اگر مجھے شفاعت کا حق دیا گیا تو میں تمہاری شفاعت کروں گا اور اگر مجھے طاقت ہوئی تو میں تجھے فائدہ پہنچاؤں گا۔پھر انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم !ہر حدیث جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی جس میں تمہارے لیے بھلائی تھی وہ میں نے تمہارے سامنے بیان کر دی ہے سوائے ایک حدیث کے جو میں آج تمہیں بتاؤں گا جبکہ میں موت کی گرفت میں ہوں۔کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے کہ جس نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اللہ تعالیٰ نے اس پر آگ حرام کر دی یعنی وہ مسلمان ہے۔(صحیح مسلم کتاب الايمان باب من لقى الله بالايمان وهو غير شاك فيه۔حدیث (29) اللہ تعالیٰ ان صحابہ کے درجات بلند فرمائے جنہوں نے ہمیں بعض ایسی باتیں پہنچائیں جو ہمارے لیے روحانی علم کے علاوہ عملی زندگی گزارنے کے لیے بھی ضروری تھیں۔اب میں کچھ مرحومین کا ذکر کرنا چاہتا ہوں اور ان کی نماز جنازہ بھی پڑھاؤں گا۔جن میں سے پہلے سعید سوقیہ صاحب سیریا کے ہیں۔18 ر اپریل کو ان کی وفات ہوئی تھی اور بہر حال اطلاع دیر سے آئی تھی تو ان کا جنازہ لیٹ پڑھا جارہا ہے۔اِنَّا لِلهِ وَ اِنَّا اِلَیهِ راجِعُونَ۔مرحوم شام کی جماعت کے نہایت مخلص اور قدیم ممبران میں سے تھے۔انہوں نے پانچ سال کی عمر میں قرآن کریم ختم کر لیا تھا۔بچپن سے ہی قواعد تجوید اور قراءت القرآن کے ماہر تھے۔اکثر احمدی احباب کو تجوید القرآن پڑھاتے تھے۔محترم منیر الحصنی صاحب آپ پر بڑا اعتماد کیا کرتے تھے۔انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی لیکن وکالت کا پیشہ اچھا نہیں لگا اور پھر انہوں نے ٹیچنگ (teaching) کی لائن اختیار کر لی اور پھر پورے ملک میں نمایاں اساتذہ میں ان کا شمار ہو ا۔ملک کے مختلف علاقوں میں پڑھایا اور ہیڈ ماسٹر کے عہدے تک ترقی کی۔مرحوم کو تبلیغ کا بڑا شوق تھا۔ہر کسی کو تبلیغ کیا کرتے تھے۔چند سال قبل جب عربک ڈیسک نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی عربی کتب دوبارہ نشر کیں ، ترجمہ کر کے پھیلائیں تو جو جو ہوئی تھیں آپ نے سب کا مطالعہ کیا اور کہا کرتے تھے کہ اتنالمبا عرصہ احمدی رہنے کے بعد اب مجھے معلوم ہوا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اصل میں کیا فرمایا ہے۔اب پہلی دفعہ مجھے جماعت کی حقیقت معلوم ہو رہی ہے۔اب میں حقیقی اسلام احمدیت کے بارے میں نئے سرے سے معلومات حاصل کر رہا ہوں اور آپ کے اخلاق اور حسن معاشرت اور سخاوت اور خودداری اور عزت نفس اور بغیر کسی معاوضے کی خواہش کے دوسروں کی مدد جیسے خصائل آپ کا ہر جاننے والا بیان کرتا ہے اور ان سے بہت متاثر تھا اور ہر جاننے والا آپ سے انہی خصائل کی وجہ سے محبت کر تا تھا۔اپنے کام میں مگن رہنے والے تھے۔ہنس مکھ تھے۔مہربان باپ تھے۔مخلص خاوند تھے۔آپ کے دوستوں کا حلقہ بہت وسیع تھا۔نمازوں اور عبادات کے پابند تھے۔جب بھی کوئی رقم ملتی چندہ ادا کرتے۔