خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 473 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 473

خطبات مسرور جلد 17 473 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 ستمبر 2019 امام نووی نے لکھا ہے کہ تمام علماء کا اتفاق ہے کہ ام حرائم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محرم تھیں۔اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے تکلفی کے ساتھ دوپہر کو بعض دفعہ ان کے ہاں جا کر آرام فرمایا کرتے تھے۔لیکن کیفیت محرمیت جو ہے اس میں اختلاف ہے ، محرم تو تھیں یہ تو سب مانتے ہیں لیکن کس قسم، کس رشتے داری کی وجہ سے محرم تھیں اس میں بعض نے اختلاف کیا ہے۔(المنهاج بشرح صحیح مسلم از امام نووی کتاب الامارة باب فضل الغزو في البحر حديث 1912 صفحه 1465 مطبوعه دار ابن حزم بيروت 2002ء) بہر حال کسی نے کسی تعلق سے محرم کہا ہے اور کسی نے کسی تعلق سے۔حضرت ام حرام جب اسلام لائیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی اور حضرت عثمان ذوالنورین کے زمانے میں انہوں نے اپنے خاوند عُبادہ بن صامت کے ساتھ جو انصار میں سے تھے اور بڑے جلیل القدر صحابی تھے جن کا ذکر ہو رہا ہے ان کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلیں اور سر زمین روم میں پہنچ کر مرتبہ شہادت سے سر فراز ہوئیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایک خواب رو یاد یکھی تھی اس کے مطابق پھر ان کی شہادت بھی ہوئی۔بخاری کی شرح عمدة القاری اور بخاری کی ایک اور شرح ارشاد الساری میں لکھا ہے کہ حضرت ام حرام کی وفات 27 تا 128 ہجری میں ہوئی۔بعض کے نزدیک ان کی وفات امیر معاویہ کے دورِ حکومت میں ہوئی تھی۔پہلا قول زیادہ مشہور ہے اور سیرت نگاروں نے اسی کو بیان کیا ہے کہ حضرت عثمان کے دورِ خلافت میں یہ بحری جنگ ہوئی تھی جس میں حضرت ام حرام کی وفات ہوئی تھی۔معاویہ کے زمانے سے مراد حضرت معاویہ کا زمانہ حکومت نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ وقت ہے جب حضرت معاویہ نے روم کے خلاف ایک بحری جنگ لڑی تھی اور اس جنگ میں حضرت ام حرائم بھی اپنے شوہر حضرت عبادہ بن صامت کے ساتھ شریک ہوئی تھیں اور اسی بحری جنگ سے واپسی پر حضرت ام حرام کی وفات ہوئی تھی اور یہ واقعہ حضرت عثمان کے دورِ خلافت کا ہے۔(عمدة القاری شرح صحيح البخاری جلد14صفحه 128، دار احیاء التراث العربي 2003ء) (ارشاد السارى شرح صحيح البخارى لشهاب الدين القسطلانی جلد 5 صفحه 230 ، دارالفکر بيروت 2010ء) مجنادہ بن ابو امیہ سے مروی ہے کہ جب ہم حضرت عبادہ کے پاس گئے تو وہ بیمار تھے۔ہم لوگوں نے کہا کہ اللہ آپ کو صحت دے۔آپ کوئی حدیث بیان کریں جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو تا کہ اللہ آپ کو نفع پہنچائے۔آپ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلایا اور ہم نے آپ کی بیعت کی۔آپ نے جن باتوں کی بیعت ہم سے لی وہ باتیں یہ تھیں کہ ہم بیعت کرتے ہیں اس بات پر کہ ہم اپنی خوشی اور اپنے غم اور اپنی تنگ دستی اور خوش حالی اور اپنے اوپر ترجیح دیے جانے کی صورت میں سنیں گے اور اطاعت کریں گے اور حکومت کے لیے حاکموں سے جھگڑا نہیں کریں گے۔حکومت کے لیے حاکموں سے جھگڑا نہیں کریں گے لیکن اعلانیہ کفر پر جس پر اللہ کی طرف سے دلیل ہو۔(صحيح البخارى كتاب الفتن باب قول النبي علي الله سَتَرَوْنَ بَعْدِى أَمُوْرًا تُنْكِرُونَها حديث 7055-7056) سوائے اس کے کہ اعلانیہ کفر پر مجبور کیا جائے۔واضح باتیں ہوں تو وہاں اور بات ہے۔اور وہ بھی اگر