خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 32
خطبات مسرور جلد 17 32 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جنوری 2019 نقصان پہنچا سکوں گا یا نہیں یعنی جو میرا قتل کا یا پکڑنے کا ارادہ ہے وہ میں کر سکوں گا یا نہیں۔کہتا ہے کہ پس وہی نکلا جسے میں نا پسند کرتا تھا۔یعنی فال میرے خلاف نکلی۔یہی کہ میں نہیں پکڑ سکتا۔کہتا ہے میں پھر اپنی گھوڑی پر سوار ہو گیا اور پانسے کے خلاف عمل کیا یا جو بھی فال نکلی تھی اس کے خلاف عمل کیا۔گھوڑی پھر سرپٹ دوڑتے ہوئے مجھے لئے جارہی تھی اور اتنا نز دیک ہو گیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن پڑھتے سن لیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ادھر ادھر نہیں دیکھتے تھے اور حضرت ابو بکر کثرت سے مڑ مڑ کر دیکھتے تھے۔تھوڑی دیر بعد کیا ہوا، جب میں قریب پہنچا تو میری گھوڑی کی انگلی ٹانگیں زمین میں گھٹنوں تک دھنس گئیں اور میں گر پڑا۔پھر میں نے گھوڑی کو ڈانٹا اور اٹھ کھڑا ہوا۔وہ اپنی ٹانگیں زمین سے نکال نہ سکتی تھی۔آخر جب وہ سیدھی کھڑی ہوئی اور بڑا زور لگا کر سیدھی کھڑی ہوئی تو اس کی دونوں ٹانگوں سے گر داٹھ کر فضا میں دھوئیں کی طرح پھیل گئی۔یعنی اتنی دھنسی ہوئی تھی کہ نکالتے ہوئے زور لگایا تو مٹی جو باہر نکلی وہ اتنی زیادہ تھی کہ لگتا تھا کہ غبار چھا گیا ہے۔کہتا ہے اب میں نے دوبارہ تیروں سے فال لی تو وہی نکلا جسے میں ناپسند کرتا تھا یعنی وہ جو میں چاہتا تھا اس کے خلاف فال نکلی یعنی کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر قابو نہیں پا سکتا۔تب میں نے انہیں آواز دی کہ تم امن میں ہو۔میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دے کر کہا کہ اب آپ امن میں ہیں اور پھر وہ ٹھہر گئے۔یعنی اب میرا کوئی ارادہ نہیں ہے۔میری بدنیت نہیں ہے۔کہتے ہیں اب میں اپنی گھوڑی پر سوار ہو کر ان کے پاس آیا۔جب نیت ٹھیک ہو گئی تو گھوڑی بھی چل پڑی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی یاوہ لوگ بھی کچھ دیر پیچھے آئے یا ٹھہر گئے۔کہتا ہے کہ ان تک پہنچنے میں مجھے جو روکیں پیش آئیں ان کو دیکھ کر میرے دل میں یہ خیال آیا کہ ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی بول بالا ہو گا۔میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ کی قوم نے آپ کے متعلق دیت مقرر کی ہے اور میں نے ان کو وہ سب چیزیں بتائیں جو کچھ کہ لوگ ان سے کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔یعنی کفار کے جو بھی بد ارادے تھے اس کی ساری تفصیل بتادی۔اور پھر میں نے ان کے سامنے زاد اور سامان پیش کیا۔میں نے کہا کہ یہ سامان ہے۔آپ سفر میں جارہے ہیں تو سفر کا کھانے پینے کا کچھ سامان پیش کیا مگر انہوں نے مجھ سے نہ لیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا کہ نہیں۔انہیں ضرورت نہیں۔اور نہ ہی مجھ سے کوئی اور فرمائش کی سوائے اس کے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا کہ ہمارے سفر کے متعلق حال پوشیدہ رکھنا یعنی کسی کو بتانا نہ کہ کس راستے سے ہم جارہے ہیں۔کہتا ہے کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی اور اب وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے، کہ آپ میرے لئے امن کی ایک تحریر لکھ دیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر بن فهيرة، یہی جو حبشی غلام تھے اور آزاد تھے سے فرمایا کہ تحریر لکھ دو اور اس نے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر لکھ دیا۔اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہو گئے۔ابن شہاب کی روایت ہے کہ عروة بن زبیر نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راستہ میں حضرت زبیر سے ملے جو مسلمانوں کے ایک قافلے کے ساتھ شام سے تجارت کر کے واپس آرہے تھے۔حضرت زبیر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر کو سفید کپڑے پہنائے اور مدینہ میں مسلمانوں نے سن لیا کہ رسول اللہ صلی