خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 472
خطبات مسرور جلد 17 472 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 ستمبر 2019 عطاء بیان کرتے ہیں کہ میں ولید سے ملا جو حضرت عبادہ بن صامت صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے تھے۔میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے والد یعنی حضرت عُبادہ کی موت کے وقت وصیت کیا تھی ؟ تو انہوں نے بیان کیا کہ انہوں نے یعنی حضرت عبادہ نے مجھے بلایا اور کہا کہ اے میرے بیٹے! اللہ تعالیٰ سے ڈر اور جان لے کہ تُو ہر گز اللہ کا تقوی اختیار نہیں کر سکتا جب تک کہ تو اللہ پر ایمان نہ لائے۔ایمان کامل ہونا چاہیے۔اور ہر قسم کے خیر وشر کی تقدیر پر بھی ایمان نہ لائے۔پس اگر تو اس کے علاوہ کسی اعتقاد پر مرا تو تو آگ میں داخل ہو گا۔(سنن الترمذی ابواب القدر باب اعظام امر الايمان بالقدر حديث 2155) حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام حرام بنت ملحان کے گھر تشریف لایا کرتے تھے جو حضرت عبادہ بن صامت کی بیوی تھیں۔وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا کھلا تیں۔ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام حرام کے گھر تشریف لائے تو انہوں نے آپ کو کھانا کھلایا اور آپ کا سر دیکھنے لگیں، جھسنے لگیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے۔اس کے بعد اسی حالت میں کہ سوئے ہوئے تھے آپ مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے۔حضرت ام حرام کہتی ہیں کہ میں نے پوچھا کہ یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کس بات پر مسکرارہے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا کہ میری امت میں سے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کیے گئے جو اللہ کی راہ میں جنگ کے لیے نکلے ہوئے ہیں۔وہ اس سمندر میں سوار ہیں گویا تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہ ہیں یا فرمایا کہ ان بادشاہوں کی طرح ہیں جو تختوں پر بیٹھے ہوئے ہوں۔بیان کرنے والے نے شک کیا کہ کون سا لفظ فرمایا تھا۔بہر حال کہتی ہیں کہ میں نے کہا کہ یارسول اللہ ! آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کرے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام حرام کے لیے دعا کی۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپناسر رکھا اور سو گئے۔پھر اس کے بعد آپ مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے۔کہتی ہیں میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! آپ کس بات پر مسکرارہے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا میری امت میں سے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کیے گئے جو اللہ کی راہ میں جنگ کے لیے نکلے ہوئے تھے۔پھر آپ نے پہلی دفعہ والی جو بات تھی، جو پہلے بیان ہو چکی ہے وہ دہرائی۔کہتی تھیں میں نے کہا یا رسول اللہ ! آپ اللہ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔آپ نے فرمایا کہ تو تو پہلے ہی ان لوگوں میں شریک ہو چکی ہے۔چنانچہ حضرت ام حرام معاویہ بن ابو سفیان کے زمانے میں سمندری سفر میں شامل ہوئیں اور جب سمند ر سے باہر آئیں تو اپنی سواری سے گر کر فوت ہو گئیں۔(صحيح البخاري كتاب الجهاد والسير باب الدعاء بالجهاد الشهادة للرجال والنساء حديث 2788-2789) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام کے گھر اس لیے جاتے تھے کہ آپ کا ایک محرم رشتہ تھا۔یہ نہیں کہ ان کی بیوی تھیں ان کے گھر چلے گئے۔اس بارے میں لکھا ہے کہ ام حرام ملحان ابن خالد کی بیٹی ہیں۔قبیلہ بنی نجار سے تعلق رکھتی تھیں۔انس کی خالہ تھیں اور ان کی والدہ ام سلیم کی بہن ہیں یہ دونوں یعنی ام حرام اور ام سلیم دودھ کے رشتے سے یا کسی نسبتی قرابت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خالہ تھیں۔الاستيعاب جلد 4 صفحه 1931 مطبوعه دار الجيل بيروت 1992ء)