خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 471 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 471

خطبات مسرور جلد 17 471 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 ستمبر 2019 درمیان سے میں ہٹ جاتا ہوں یعنی میں یہاں سے چلا جاتا ہوں۔حضرت عثمان نے لکھا کہ آپ حضرت عبادہ کو سوار کروا کے مدینہ منورہ میں ان کے گھر کی طرف روانہ کر دیں۔چنانچہ حضرت معاویہؓ نے انہیں روانہ کر دیا اور وہ مدینہ منورہ پہنچ گئے۔حضرت عبادہ حضرت عثمان کے پاس ان کے گھر چلے گئے جہاں سوائے ایک آدمی کے اگلے پچھلوں میں سے کوئی نہ تھا یعنی کہ جس نے صحابہ کو پایا تھا۔انہوں نے حضرت عثمان کو مکان کے کونے میں بیٹھے ہوئے پایا۔پھر آپ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور حضرت عثمان نے فرمایا کہ اے عبادہ بن صامت! آپ کا اور ہمارا کیا معاملہ ہے۔تو حضرت عُبادہ لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعد ایسے لوگ تمہارے حکمران ہوں گے جو تمہیں ایسے کاموں کی پہچان کرائیں گے جنہیں تم نا پسند کرتے ہو گے اور ایسے کاموں کو نا پسند کروائیں گے جنہیں تم اچھا سمجھتے ہوگے۔سوجو شخص اللہ کی نافرمانی کرے اس کی اطاعت نہیں۔پس تم اپنے رب کی حدود سے تجاوز نہ کرنا۔(مسنداحمد بن حنبل جلد 7 صفحه 564-565 مسند عبادہ بن صامت حدیث 23149-23150، عالم الكتب بيروت 1998ء) بعض مسائل ہیں جن میں اختلاف ہو سکتا ہے۔حضرت امیر معاویہ اور عبادہ بن صامت میں بھی اس طرح کے بعض ایسے مسائل پر اختلاف رہتا تھا۔گذشتہ خطبے میں بھی یہ ذکر ہوا تھا کہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں بھی ایک دفعہ یہ واقعہ ہوا اور کیونکہ حضرت عبادہ بن صامت اولین صحابہ میں سے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے براہِ راست انہوں نے یہ مسائل سنے ہوئے تھے اس لیے بڑے تحدی سے یہ ان کے اوپر عمل کرنے اور کروانے والے ہوتے تھے اور یہی کہا کرتے تھے کہ یہی صحیح ہیں۔حضرت عمرؓ کے زمانے میں جب امیر معاویہ سے یہ اختلاف ہوا تو حضرت عمر نے امیر معاویہ کو کہہ دیا کہ ان سے تم نے کوئی پوچھ کچھ نہیں کرنی۔جو مسائل یہ بیان کرتے ہیں ان کو کرنے دیا کرو اور جب یہ مدینہ آئے تھے تو ان کو واپس بھیج دیا۔(سنن ابن ماجه كتاب السنة باب تعظیم حدیث رسول الله۔الخ حديث 18) لیکن حضرت عثمان کے زمانے میں دوبارہ یہ بات ہوئی تو حضرت عثمان نے ان کو ان حالات کی وجہ سے واپس بلا لیا۔بہر حال حضرت عُبادہ کا ایک مقام تھا۔وہ بعض باتوں کی تشریح کر سکتے تھے۔انہوں نے سمجھی ہوئی تھیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست سنی تھیں اور اس وجہ سے وہ اختلاف کرتے تھے اور بعض معاملات میں بتا بھی دیا کرتے تھے۔مثلاً لین دین کا معاملہ ہے ، بارٹر (barter) کا معاملہ ہے، تجارت کا معاملہ ہے۔یہ وسیع مضمون ہے یہاں اس وقت بیان نہیں ہو سکتا، اس میں بھی ان کا اختلاف امیر معاویہ سے ہوا تھا۔تو بہر حال ان کے پاس دلائل تھے اور انہوں نے اس کے مطابق اپنی تشریح کی۔امیر معاویہ نے اپنی تشریح کی لیکن ہر ایک کا یہ کام نہیں ہے کہ اس طرح اختلاف کرتا پھرے جب تک قرآن اور حدیث کی واضح نص موجود نہ ہو۔اور اس زمانے میں پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو بیان کیا ہے۔اس میں بنیادی چیز جو ضروری ہے ، یادرکھنے والی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حدود جو ہیں ان سے تجاوز نہیں کرنا، ان کے اندر رہنا ہے۔بس یہی ہر احمدی کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے اور پھر اطاعت کے دائرے کے اندر رہنا چاہیے۔