خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 470 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 470

470 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 ستمبر 2019 خطبات مسرور جلد 17 آ جاتے ہیں اور وہ اچھے مومن ہیں تو وہ ایسی صورت میں شہادت ہے۔پھر پانی میں غرق ہو جانا بھی شہادت ہے اور پیٹ کی بیماری کی وجہ سے مرنا بھی شہادت ہے اور آپ نے فرمایا کہ نفاس کی حالت میں مرنے والی عورت کو اس کا بچہ اپنے ہاتھ سے کھینچ کر جنت میں لے جائے گا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 5 صفحه 492 مسند راشد بن حبيش 16094، عالم الكتب بيروت 1998ء) یعنی ایسی عورت جو بچے کی پیدائش کے وقت خون بہنے کی وجہ سے مر جاتی ہے یا نفاس کی حالت میں جو چالیس دن تک رہتی ہے اس عرصے میں بھی بچے کی پیدائش کی وجہ سے اور اسی حالت میں کمزوری کی وجہ سے فوت ہو جاتی ہے تو فرمایا کہ اسے بھی اس کا بچہ کھینچ کر جنت میں لے جائے گا۔یعنی بچہ اس کو جنت میں لے جانے کا باعث بن جائے گا۔جو روایت میں نے بیان کی ہے۔اس سے ملتی جلتی صحیح بخاری میں درج ایک روایت ملتی ہے۔حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شہید پانچ ہیں : طاعون سے مرنے والا، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا، ڈوب کر مرنے والا، دب کر مرنے والا اور اللہ کی راہ میں شہید ہونے والا۔(صحيح البخارى كتاب الجهاد والسير باب الشهادة سبع سوى القتل حديث 2829) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو طاعون ایک نشان کی صورت میں بتایا گیا تھا۔اس کے لیے اب یہ نشانی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جو ماننے والے لوگ ہیں ، صحیح ایمان لانے والے ہیں ان کے اوپر اس کا حملہ نہیں ہو گا۔اس لیے یہاں ایک بالکل اور صورت بن جاتی ہے لیکن عمومی طور پر اگر وبا پھیلی ہوئی ہے اور ایک مومن ہے اور کامل مومن ہے وہ اگر اس وجہ سے مرتا ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شہید ہے۔اسماعیل بن عبید انصاری بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبادہ نے حضرت ابوہریرہ سے فرمایا کہ اے ابوہریرہ ! آپ اس وقت ہمارے ساتھ نہ تھے جب ہم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی۔ہم نے آپ سے چستی اور سستی ہر حال میں بات سننے اور ماننے اور خوش حالی اور تنگی میں خرچ کرنے پر، امر بالمعروف اور نهی عن المنکر پر، اللہ تبارک و تعالیٰ کے متعلق صحیح بات کہنے اور اس معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروانہ کرنے پر اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری پر ان کی مدد کرنے اور اپنی جانوں اور اپنے بیوی بچوں کی طرح آپ کی حفاظت کرنے کی شرط پر بیعت کی تھی۔یہ تمام ، ساری باتیں ایسی تھیں جن پر ہم نے بیعت کی تھی جس کے عوض ہمارے لیے جنت کا وعدہ ہے۔پس یہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت جس پر ہم نے بیعت کی۔جو اسے توڑتا ہے وہ اپنا نقصان کرتا ہے۔جو ان شرائط کو جس پر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی پورا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس بیعت کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے کیا ہو اوعدہ پورا کرے گا۔حضرت معاویہ نے ایک دفعہ حضرت عثمان غنی کو خط لکھا کہ حضرت عبادہ بن صامت کی وجہ سے شام اور اہل شام میرے خلاف شورش برپا کر رہے ہیں۔اب یا تو آپ عبادہ کو پاس بلا لیں یا پھر ان کے اور شام کے