خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 469
خطبات مسرور جلد 17 469 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 ستمبر 2019 پیش کی۔تیر کمان کی کمان تحفہ پیش کی اور کہتے ہیں کہ وہ ایسی اعلیٰ قسم کی کمان تھی کہ اس سے عمدہ لکڑی اور نرمی میں اس سے بہترین کمان میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کے متعلق پوچھا کہ یارسول اللہ ! اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ اس طرح وہ مجھے کمان تحفہ دے کر گیا ہے۔آپ نے فرمایا کہ یہ تمہارے کندھوں کے درمیان ایک انگارہ ہے جو تم نے لٹکایا ہے۔یعنی یہ تحفہ جو تم لے رہے ہو وہ یہ اس لیے دے کے گیا ہے کہ تم نے اسے قرآن پڑھایا ہے اور اس طرح یہ تم نے آگ لی ہے جو اپنے کندھوں میں لٹکا رہے ہو۔(مسند احمد بن حنبل جلد7 صفحه 563 ، مسند عبادہ بن صامت حدیث 23146، عالم الكتب بیروت 1998ء) ایک اور روایت بھی ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت نے بیان کیا کہ میں نے اہل صفہ میں سے کچھ لوگوں کو قرآن پڑھایا اور کہ رلکھنا سکھایا تو ان میں سے ایک شخص نے میرے پاس ہدیہ میں کمان بھیجی۔میں نے دل میں خیال کیا کہ یہ کوئی مال تو ہے نہیں، کوئی ایسی نقد چیز تو ہے نہیں، سونا چاندی تو ہے نہیں، نہ کوئی کرنسی ہے اور میں اس سے اللہ کی راہ میں تیر اندازی کروں گا۔ایک کمان ہی ہے ناں ، میرے کام آئے گی۔اگر کبھی جہاد کا موقع ملا تو تیر اندازی کے کام آئے گی۔اللہ کے رستے میں استعمال ہونی ہے۔بہر حال کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر تم آگ کا طوق پہننا پسند کرتے ہو تو اسے قبول کر لو۔(سنن ابن ماجه كتاب التجارات باب الاجر على تعليم القرآن حدیث 2157) یعنی اگر تم چاہتے ہو کہ آگ کا ایک طوق تمہارے گلے میں پہنایا جائے تو ٹھیک ہے لے لو۔یہ دونوں روایتیں جو ہیں ایک ہی طرح کی ہیں، مختلف جگہوں سے آئی ہوئی ہیں۔شارحین نے اس روایت سے یہ استدلال کیا ہے کہ گویا کمان قرآن پڑھانے کی اجرت کے طور پر تھی جسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا۔پس وہ لوگ جو انفرادی طور پر قرآن کریم پڑھانے کو ذریعہ آمد بنالیتے ہیں ان کے لیے بھی اس میں رہ نمائی ہے۔حضرت راشد بن حسینش سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبادہ بن صامت کی عیادت کے لیے ان کے ہاں تشریف لائے جب کہ وہ بیمار تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم لوگ جانتے ہو کہ میری امت کے شہید کون لوگ ہیں ؟ تو لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عُبادہ بن صامت کی عیادت کے لیے تشریف لائے تھے وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ جانتے ہو کہ میری امت کے شہید کون لوگ ہیں ؟ لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔حضرت عُبادہ نے ان سے کہا کہ مجھے سہارا دے کر بٹھا دو۔چنانچہ لوگوں نے آپ کو بٹھایا تو حضرت عبادہ نے عرض کی کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے سوال کیا ہے کہ شہید کون لوگ ہیں ؟ تو جو بہادری اور ثابت قدمی سے مقابلہ کرنے والا اور ثواب کی نیت رکھنے والا ہو وہ شہید ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر صرف اتنا ہی ہے تو اس طرح تو پھر میری امت کے شہداء بہت تھوڑے رہ جائیں گے۔پھر آپ نے فرمایا کہ اللہ عز و جل کے راستے میں قتل ہو جانا شہادت ہے۔طاعون کی وجہ سے مر جانا بھی شہادت ہے۔ایک وباجو پھیلی ہے اس میں اگر مومن بھی کسی وجہ سے لپیٹ میں ย