خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 468
خطبات مسرور جلد 17 468 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 ستمبر 2019 حفاظت ہو جائے ورنہ عرب کی خانہ بدوش اقوام کے نزدیک، حضرت مرزا بشیر احمد صاحب یہ لکھتے ہیں کہ ان کے نزدیک تو نقل مکانی کوئی بڑی بات نہیں تھی، پھرتے رہتے تھے، ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرتے رہتے تھے۔خصوصاجب کسی قبیلہ کی جائیدادیں زمینوں اور باغات کی صورت میں نہ ہوں جیسا کہ بنو قینقاع کی نہیں تھیں ، ان کی جائیدادیں تو نہیں تھیں اور پھر سارے کے سارے قبیلے کو بڑے امن وامان کے ساتھ ایک جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ جاکر آباد ہونے کا موقع مل جائے۔چنانچہ بنو قینقاع بڑے اطمینان کے ساتھ مدینہ چھوڑ کر شام کی طرف چلے گئے۔ان کی روانگی کے متعلق ضروری اہتمام اور نگرانی وغیرہ کا کام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابی عبادہ بن صامت کے سپرد فرمایا، جو ان کے حلیفوں میں سے تھے جن کا ابھی ذکر ہو رہا ہے۔چنانچہ عُبادہ بن صامت چند منزل تک بنو قینقاع کے ساتھ گئے اور پھر انہیں حفاظت کے ساتھ آگے روانہ کر کے واپس لوٹ آئے۔مالِ غنیمت جو مسلمانوں کے ہاتھ آیا وہ صرف جنگی آلات تھے یا جو ان کا پیشہ تھا اس پر مشتمل آلات تھے اور اس کے علاوہ کوئی ایسی چیز نہیں تھی جو مسلمانوں نے غنیمت میں لی ہو۔سة (ماخوذ از سیرت خاتم النبيين على الم صفحہ 458 تا460) اس کے بارے میں سیرت الحلبیہ میں بھی کچھ تفصیل ہے۔اس میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان یہود کو مدینے سے ہمیشہ کے لیے نکال کر جلا وطن کر دیا جائے۔ان کو جلا وطن کرنے کی ذمہ داری آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبادہ بن صامت کے سپرد فرمائی اور یہودیوں کو مدینے سے نکل جانے کے لیے تین دن کی مہلت دی۔چنانچہ یہودی تین دن بعد مدینے کو خیر باد کہہ کر چلے گئے۔اس سے پہلے یہودیوں نے حضرت عبادہ بن صامت سے درخواست کی تھی کہ ان کو تین دن کی جو مہلت دی گئی ہے اس میں کچھ اضافہ کر دیا جائے مگر حضرت عبادہ نے کہا کہ نہیں۔ایک منٹ بھی تمہیں مہلت نہیں دی جاسکتی، بڑھائی نہیں جا سکتی۔پھر حضرت عبادہ نے اپنی نگرانی میں ان کو جلاوطن کیا اور یہ لوگ ملک شام کی ایک بستی کے میدانوں میں جابسے۔(السيرة الحلبية الجزء الثانى باب ذکر مغازيه صلى الله عليه وسلم غزوة بني قينقاع، صفحه 287، دارالکتب العلميه بيروت 2002ء) حضرت عبادہ بن صامت سے حدیثوں کی بہت ساری دوسری روایات بھی مروی ہیں۔ایک روایت ان سے یہ ملتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مصروفیات بہت زیادہ تھیں اس لیے مہاجرین میں سے کوئی آدمی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو تا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے قرآن سکھانے کے لیے ہم میں سے کسی کے حوالے کر دیتے تھے کہ ان کو لے جاؤ اور قرآن سکھاؤ۔دینی تعلیم بھی سکھاؤ۔کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو میرے سپر د کیا۔وہ میرے ساتھ گھر میں رہتا تھا اور میں اسے اپنے گھر والوں کے کھانے میں شریک کر تا تھا، اسے قرآن پڑھاتا تھا۔جب وہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس جانے لگا تو اس نے خیال کیا کہ اس پر میر احق بنتا ہے یعنی اس کے رہنے کی وجہ سے اور اتنی خدمت کی وجہ سے اور قرآن سکھانے کی وجہ سے اس کے اوپر میر اکچھ حق بن جاتا ہے۔چنانچہ اس وجہ سے اس نے مجھے ایک کمان ہدیۃ