خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 467 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 467

خطبات مسرور جلد 17 467 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 ستمبر 2019 متمر دانہ جواب دیے اور پھر وہی دھمکی دہرائی کہ بدر کی فتح پر غرور نہ کرو۔جب ہم سے مقابلہ ہو گا تو پتالگ جائے گا کہ لڑنے والے ایسے ہوتے ہیں۔بہر حال ناچار آپ صحابہ کی ایک جمعیت کو ساتھ لے کر بنو قینقاع کے قلعوں کی طرف روانہ ہو گئے۔اب یہ آخری موقع تھا کہ وہ اپنے افعال پر پریشان ہوتے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو لے کر گئے تو یہودیوں کو چاہیے تھا کہ جو کچھ انہوں نے زیادتی کی تھی، اس پر پریشان ہوتے اور صلح کی طرف قدم بڑھاتے مگر وہ سامنے سے جنگ پر آمادہ ہو گئے۔بہر حال جنگ کا اعلان ہو گیا اور اسلام اور یہودیت کی طاقتیں ایک دوسرے کے مقابل پر نکل آئیں۔اس زمانہ کے دستور کے مطابق جنگ کا ایک طریق یہ بھی ہوتا تھا کہ اپنے قلعوں میں محفوظ ہو کر بیٹھ جاتے تھے اور فریق مخالف قلعوں کا محاصرہ کر لیتا تھا۔جو حملہ آور ہو تا تھا قلعے کا محاصرہ کر لیتا تھا۔اُسے گھیر لیتا تھا۔موقعے موقعے پر گاہے گاہے ایک دوسرے کے خلاف حملے ہوتے رہتے تھے۔حتی کہ یا تو محاصرہ کرنے والی فوج قلعے پر قبضہ کرنے سے مایوس ہو کر محاصرہ اٹھا لیتی تھی، جو گھیراؤ کیا ہو تا تھاوہ ختم کر دیتی تھی اور چلی جاتی تھی اور یہ پھر قلعے کے اندر کے جو لوگ ہوتے تھے ، محصورین جو تھے ان کی فتح سمجھی جاتی تھی کہ ان کو فتح ہو گئی اور یا پھر یہ ہو تا تھا کہ محصورین، جو قلعے کے اندر تھے ، جو محصور ہوئے ہوئے تھے وہ مقابلے کی تاب نہ لا کر قلعے کا دروازہ کھول کر اپنے آپ کو فاتحین کے سپر د کر دیتے تھے۔اس موقعے پر بھی بنو قینقاع نے یہی طریق اختیار کیا اور اپنے قلعوں میں بند ہو کر بیٹھ گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا محاصرہ کیا، قلعے کو ارد گرد سے گھیر لیا اور پندرہ دن تک بر ابر محاصرہ جاری رہا۔آخر جب بنو قینقاع کا سارا زور اور غرور ٹوٹ گیا تو انہوں نے اس شرط پر اپنے قلعوں کے دروازے کھول دیے کہ ان کے اموال مسلمانوں کے ہو جائیں گے مگر ان کی جانوں اور ان کے اہل وعیال پر مسلمانوں کا کوئی حق نہیں ہو گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط کو منظور فرما لیا کیونکہ گوموسوی شریعت کی رو سے یہ سب لوگ واجب القتل تھے۔ایسی صورت میں تو تورات جو موسوی شریعت ہے یہی کہتی ہے کہ یہ لوگ قتل کر دیے جائیں اور معاہدے کی رو سے ان لوگوں پر موسوی شریعت کا فیصلہ ہی جاری ہونا چاہیے تھا مگر اس قوم کا یہ پہلا جرم تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رحیم و کریم طبیعت انتہائی سزا کی طرف جو ایک آخری علاج ہوتا ہے ابتدائی قدم پر مائل نہیں ہو سکتی تھی۔ابتدا تھی لیکن دوسری طرف ایسے بد عہد اور معاند قبیلہ کا مدینہ میں رہنا بھی ایک مارِ آستین کے پالنے سے کم نہیں تھا یعنی بغل میں سانپ پالا ہوا ہے۔آستین میں سانپ پالنے کے برابر تھا خصوصاً جب اوس اور خزرج کا ایک منافق گروہ پہلے سے مدینہ میں موجود تھا اور بیرونی جانب سے بھی تمام عرب کی مخالفت نے مسلمانوں کے ناک میں دم کر رکھا تھا۔ایسے حالات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی فیصلہ ہو سکتا تھا کہ بنو قینقاع مدینے سے چلے جائیں۔یہ سزا ان کے جرم کے مقابلے میں اور اس کے علاوہ اس زمانہ کے حالات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایک بہت نرم سزا تھی اور دراصل اس میں صرف خود حفاظتی کا پہلو مد نظر تھا۔مقصد یہ تھا کہ مدینے کے لوگوں کی، مدینے کے مسلمانوں کی