خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 466 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 466

خطبات مسرور جلد 17 466 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 ستمبر 2019 کے درمیان ہوا تھا اور بدر کے بعد انہوں نے بہت سرکشی شروع کر دی اور بر ملا طور پر بغض اور حسد کا اظہار کیا اور عہد و پیمان کو توڑ دیا۔مگر باوجود اس قسم کی باتوں کے مسلمانوں نے اپنے آقا آنحضرت صلی لی یم کی ہدایت کے ماتحت ہر طرح سے صبر سے کام لیا اور اپنی طرف سے کوئی پیش دستی نہیں ہونے دی بلکہ حدیث میں آتا ہے کہ اس معاہدے کے بعد جو یہود کے ساتھ ہوا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاص طور پر یہود کی دل داری کا خیال رکھتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ ایک مسلمان اور ایک یہودی میں کچھ اختلاف ہو گیا۔یہودی نے حضرت موسیٰ کی تمام انبیاء پر فضیلت بیان کی۔صحابی کو اس پر غصہ آیا اور اس نے یہودی کے ساتھ کچھ سختی کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو افضل الرسل بیان کیا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے کی اطلاع ہوئی تو آپ ناراض ہوئے اور اس صحابی کو ملامت فرمائی، تنبیہ کی کہ تمہارا کیا کام ہے کہ تم خدا کے رسولوں کی ایک دوسرے پر فضیلت بیان کرتے پھرو اور پھر آپ نے موسیٰ کی ایک جزوی فضیلت بیان کر کے یہودی کی دل داری فرمائی۔مگر باوجود اس دل دارانہ سلوک کے ، نرمی کے سلوک کے ، شفقت کے سلوک کے یہودی اپنی شرارت پر ترقی کرتے گئے اور بالآخر یہود کی طرف سے ہی جنگ کا باعث پیدا ہوا اور ان کی جو قلبی ، دلی عداوت تھی ان کے سینوں میں سمانہ سکی۔وہیں نہ رہ سکی بلکہ باہر نکل آئی اور یہ اس طرح پر ہوا کہ ایک مسلمان خاتون بازار میں ایک یہودی کی دکان پر کچھ سودا خریدنے کے لیے گئی۔بعض شریر یہودیوں نے جو اس وقت اس دکان پر بیٹھے ہوئے تھے اسے نہایت اوباشانہ طریقے پر چھیڑا اور خود دکان دار نے یہ شرارت کی کہ عورت کے نتہ بند کے کونے کو اس کی بے خبری میں کسی کانٹے وغیرہ سے اس کی پیٹھ کے کپڑے سے ٹانک دیا۔کوئی چیز ، کوئی hook لگا ہوا ہو گا یا کانٹا ہو گا۔کوئی چیز پڑی ہو گی اس سے اس کے کپڑے کو وہاں ٹانک دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ جب وہ عورت ان کے اوباشانہ طریق کو دیکھ کر وہاں سے اٹھ کر لوٹنے لگی تو وہ ننگی ہو گئی ، کپڑا اتر گیا۔اس پر اس یہودی دکاندار اور اس کے ساتھیوں نے زور سے ایک قہقہہ لگایا اور ہنسنے لگ گئے۔مسلمان خاتون نے شرم کے مارے ایک چیخ ماری اور مدد چاہی۔اتفاق سے ایک مسلمان اس وقت قریب موجود تھا۔وہ لپک کر موقعے پر پہنچا اور پھر وہاں آپس میں لڑائی شروع ہو گئی۔یہودی دکاندار مارا گیا۔جس پر چاروں طرف سے اس مسلمان پر تلوار میں برس پڑیں۔انہوں نے حملہ کر دیا اور وہ غیور مسلمان وہیں ڈھیر ہو گیا۔وہیں قتل ہو گیا، شہید ہو گیا۔مسلمانوں کو اس واقعے کا علم ہو اتو پھر ان کی بھی غیرت قومی بھڑ کی۔ان کی آنکھوں میں خون اتر آیا اور دوسری طرف یہودی جو اس واقعہ کو لڑائی کا بہانہ بنانا چاہتے تھے ہجوم کر کے اکٹھے ہو گئے اور ایک بلوے کی صورت پیدا ہو گئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ہوئی تو آپ نے رؤسائے بنو قینقاع کو جمع کر کے کہا کہ یہ طریق اچھا نہیں۔تم ان شرارتوں سے باز آ جاؤ اور خدا سے ڈرو۔انہوں نے بجائے اس کے کہ اظہار افسوس کرتے ، ندامت کرتے ، شرمندگی کا احساس کرتے اور معافی طلب کرتے مانگنے والے بنتے انہوں نے سامنے سے نہایت ہی تکبر سے