خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 465
خطبات مسرور جلد 17 465 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 ستمبر 2019 پس یہاں جو واضح کیا گیا ہے، پہلی آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ کمزوری اور خوف اور بزدلی کی وجہ سے غیر مسلموں سے تعلقات نہیں رکھنے۔مقصد یہ ہے کہ تمہارا اللہ تعالیٰ پر توکل ہونا چاہیے اور اپنی ایمانی حالت کو بہتر کرو گے تو خدا تعالیٰ بھی تمہارے ساتھ ہو گا لیکن ہم آج کل دیکھتے ہیں کہ بد قسمتی سے مسلمان حکومتیں مدد کے لیے انہی غیر لوگوں کی گودوں میں گر رہی ہیں اور ان سے خوف زدہ بھی ہیں اور غیروں سے مدد لینے کی وجہ سے پھر نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ ہر ایک مسلمان ملک دوسرے مسلمان کے خلاف ہے۔یہی لوگ پھر اسلام کی جڑیں کاٹنے والے بھی ہیں۔بہر حال ہم یہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان مسلمان حکومتوں کو بھی عقل دے۔بہر حال اس واقعہ کا ذکر ہو رہا ہے کہ بنو قینقاع نے جب جنگ کی تو اس کے بعد ان کا گھیراؤ کیا گیا۔جنگ ہوئی اور انہوں نے شکست کھائی۔سیرت خاتم النبیین میں اس واقعہ کا مختلف تاریخوں سے لے کر جو ذکر کیا گیا ہے وہ اس طرح ہے کہ اس جنگ کے بعد جب بنو قینقاع کی شکست ہوئی تو ان کو جلا وطنی کا حکم دیا گیا۔اس کی تفصیل اس طرح ہے کہ جب جنگ بدر ہو چکی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مسلمانوں کو باوجود ان کی قلت اور بے سروسامانی کے قریش کے ایک بڑے جزار لشکر پر نمایاں فتح دی اور مکے کے بڑے بڑے عمائد خاک میں مل گئے تو مدینے کے یہودیوں کی مخفی آتش حسد جو تھی وہ بھڑک اٹھی۔انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ کھلم کھلا نوک جھونک شروع کر دی۔مجلسوں میں بر ملا طور پر یہ کہنا شروع کر دیا کہ قریش کے لشکر کو شکست دینا کون سی بڑی بات تھی۔ہمارے ساتھ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا مقابلہ ہو تو ہم بتادیں کس طرح لڑا کرتے ہیں۔حتٰی کہ ایک مجلس میں انہوں نے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ پر اسی قسم کے الفاظ کہے۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ جنگ بدر کے بعد جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے ایک دن یہودیوں کو جمع کر کے ان کو نصیحت فرمائی اور اپناد عوی پیش کر کے اسلام کی طرف دعوت دی۔آپ کی اس پر امن اور ہمدردانہ تقریر کا رؤسائے یہود نے ان الفاظ میں جواب دیا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تم شاید چند قریش کو قتل کر کے مغرور ہو گئے ہو اور وہ لوگ لڑائی کے فن سے ناواقف تھے۔اگر ہمارے ساتھ تمہارا مقابلہ ہو تو تمہیں پتالگ جائے گا کہ لڑنے والے ایسے ہوتے ہیں۔اور یہود نے صرف اس عام دھمکی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ لکھا ہے، ایسا معلوم ہو تا تھا کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے بھی منصوبے شروع کر دیے تھے۔کیونکہ روایت آتی ہے کہ جب ان دنوں میں طلحہ بن براء جو ایک مخلص صحابی تھے فوت ہونے لگے تو انہوں نے وصیت کی کہ اگر میں رات کو مروں تو نماز جنازہ کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع نہ دی جائے کہیں ایسا نہ ہو کہ میری وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہود کی طرف سے کوئی حادثہ گزر جائے۔یعنی آپ رات کے وقت جنازے کے لیے تشریف لائیں اور یہود کو آپ پر حملہ کرنے کا موقع ملے۔بہر حال جنگ بدر کے بعد یہود نے کھلم کھلا شرارت شروع کر دی اور چونکہ مدینے کے یہود میں بنو قینقاع سب سے زیادہ طاقتور اور بہادر تھے اس لیے سب سے پہلے ان ہی کی طرف سے عہد شکنی ہوئی۔چنانچہ مؤرخین لکھتے ہیں کہ مدینے کے یہودیوں میں سب سے پہلے بنو قینقاع نے اس معاہدے کو توڑا جو ان کے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم