خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 31 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 31

خطبات مسرور جلد 17 31 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جنوری2019 پی کر رات گزارتے۔اور یہ دودھ ان دونوں کی دودھیل بکری کا ہوتا۔عامر بن فہیر رات کے پچھلے پہر گلے میں چلا جاتا اور بکریوں کو آواز دینا شروع کر دیتا۔تین رات تک وہ ایسا ہی کرتا رہا۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر نے بنو دیل کے قبیلے کے ایک شخص کو راستہ بتانے کے لئے اجرت پر رکھ لیا تھا اور وہ بنو عبد بن عدی سے تھا۔بہت ہی واقف کار راستہ بتانے کا ماہر تھا۔اس شخص نے عاص بن وائل کے خاندان کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لئے اپنا ہاتھ ڈبویا تھا اور وہ کفار قریش ہی کے مذہب پر تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر دونوں نے اس پر اعتبار کیا۔گو وہ کافر تھا اور قریش کا ہی زیادہ پر وردہ بھی تھا لیکن بہر حال آپ نے اس پہ اعتبار کیا اور اپنی سواری کی اونٹنیاں اس کے سپرد کر دیں اور اس سے یہی وعدہ ٹھہرایا کہ وہ تین دن کے بعد صبح کے وقت ان کی اونٹنیاں لے کر غار ثور پر پہنچے گا۔عامر بن فہیرہ اور رہبر ان دونوں کے ساتھ چلے۔وہ رہبر ان تینوں کو سمندر کے کنارے کے راستے سے لے کر چلا گیا۔یہ بخاری کی روایت ہے۔(صحيح البخاری کتاب مناقب الانصار باب هجرة النبى يا الله۔۔۔الخ حديث 3905) سراقہ بن مالک بن جغشہ کہتے تھے کہ ہمارے پاس کفار قریش کے ایچی آئے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر ان دونوں میں سے ہر ایک کی دیت مقرر کرنے لگے اس شخص کے لئے جو ان کو قتل کرے یا قید کرے۔اسی اثناء میں کہ میں اپنی قوم بنو مُذلِج کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ان میں سے ایک شخص سامنے سے آیا۔یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ کس طرح پکڑا جائے یا قتل کیا جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر، حضور پر کس طرح حملہ کیا جائے۔کہتے ہیں یہ باتیں ہماری مجلس میں ہو رہی تھیں کہ ایک شخص آیا اور آکر ہمارے پاس کھڑ اہو گیا اور ہم بیٹھے تھے۔کہنے لگا: سراقہ امیں نے ابھی سمندر کے کنارے کی طرف کچھ سائے دیکھے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ وہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے ساتھی ہیں۔سراقہ کہتے تھے کہ میں نے شناخت کر لیا کہ وہی ہیں مگر میں نے اسے کہا کہ وہ ہر گز نہیں ہیں بلکہ تم نے فلاں فلاں کو دیکھا ہے جو ہمارے سامنے گئے تھے اور اس کی بات ٹال دی۔پھر میں اس مجلس میں کچھ دیر ٹھہرارہا۔سراقہ کو اس وقت لالچ بھی تھا کہ کہیں یہ نہ پیچھے چلا جائے اور پھر یہ انعام کا حق دار ٹھہر جائے۔تو کہتے ہیں بہر حال میں نے ٹال دیا اور کچھ دیر کے بعد اٹھا اور گھر گیا اور اپنی لونڈی سے کہا کہ میری گھوڑی نکالو۔وہ ٹیلے کے پرے ہی رہے۔یعنی پیچھے جو ایک چھوٹا ساٹیلا تھا اس کی طرف میری گھوڑی لے جاؤ، اور وہیں رکھو۔وہاں اس کو میرے لئے تھامے رکھو۔چنانچہ میں نے اپنا نیزہ لیا اور اس کو لے کر گھر کے پیچھے کی طرف سے نکلا۔میں نے نیزے کے بھال کو زمین پر رکھا اور اس کے اوپر کے حصے کو نیچے جھکایا اور اس طرح اپنی گھوڑی کے پاس پہنچا اور اس پر سوار ہو گیا۔یعنی گھوڑی پر سوار ہونے کے لئے اپنا واقعہ بیان کر رہے ہیں کہ نیزہ کا سہارا لیا اور گھوڑی پر سوار ہو گیا۔میں نے اس کو چمکا یا یعنی تھوڑی سی اس کو تھپکی دی اور اس کو دوڑایا اور وہ سرپٹ دوڑتی ہوئی مجھے لے گئی یہاں تک کہ جب ان کے قریب پہنچا یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچا تو میری گھوڑی نے ایسی ٹھو کر کھائی کہ میں اس سے گر پڑا۔میں اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے ترکش کی طرف ہاتھ جھکا کر میں نے اس سے تیر نکالا اور اس سے فال لی کہ آیا ان کو