خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 462
خطبات مسرور جلد 17 462 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 اگست 2019 وقت صدر فضل عمر فاؤنڈیشن تھے، میں نے ان کو صدر فضل عمر فاؤنڈیشن مقرر کیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے یہ تاوفات صدر فضل عمر فاؤنڈیشن رہے۔وفات تک یعنی کہ یہاں انگلستان علاج کے لیے آنے تک، تین چار مہینے پہلے تک آپ بڑی محنت سے فضل عمر فاؤنڈیشن کے کام سر انجام دیا کرتے تھے۔تمام اجلاسات میں باقاعدگی سے آتے، دلچسپی لیتے۔ان کے وقت میں بھی کام میں کافی وسعت پید ا ہوئی ہے۔ان کے پسماندگان میں ان کی اہلیہ انیسہ طاہر صاحبہ ہیں اور بیٹے اسفند یار عارف اور تین بیٹیاں طیبہ عارف اور عزیزہ اوج اور بنا طاہر عارف ہیں۔دو بیٹیاں بیاہی ہوئی ہیں ایک بیٹا اور بیٹی ابھی ان کی شادی نہیں ہوئی۔ان کی بیٹی طیبہ عارف طاہر صاحبہ لکھتی ہیں کہ ہمارے والد محترم طاہر عارف صاحب مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ دنیوی ترقیات سے نوازا مگر آپ نے ہمیشہ احمدیت کے تشخص کو بڑی جرأت اور غیرت کے ساتھ بر قرار رکھا۔نہایت دیانت دار قابل اعتبار افسر تھے۔دین کو ترجیح دینے والے، اللہ پر توکل رکھنے والے ایک منکسر المزاج انسان تھے۔شاعر تھے، ادیب تھے ، اعلیٰ منتظم تھے ، ٹیچر تھے ، دینی علوم سے مرقع تھے، ایک ذمہ دار شوہر تھے، نہایت شفیق باپ تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ خدا اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے عشق میں بھی محو تھے۔کہتی ہیں کہ ہماری امی کہتی ہیں کہ آپ کو ہمیشہ بہت انصاف پسند اور نرم مزاج پایا۔بلا تفریق چھوٹے بڑے امیر غریب ہر کسی کے ساتھ عہدے سے مبرا ہو کر حسن سلوک سے پیش آتے۔بعض رشتہ دار جذبات میں آکے اور اپنے ذاتی تعلق کی وجہ سے لکھ دیتے ہیں لیکن ان کے بارے میں جو بھی لکھا جارہا ہے کیونکہ میں ان کو ذاتی طور پر جانتا ہوں اس لیے سب کچھ حقیقت ہے۔واقعی یہ ایسے تھے۔مبارک صدیقی صاحب لکھتے ہیں کہ مرحوم طاہر عارف صاحب کی طبیعت میں عاجزی اور انکساری تھی اور خلیفہ وقت سے انتہائی عقیدت اور اطاعت کا تعلق رکھنے والے تھے۔بہت ہی اعلیٰ پائے کے شاعر اور ادیب تھے۔کہتے ہیں میں نے ایک دفعہ ان سے کہا کوئی اپنا پسندیدہ شعر سنائیں۔اس پر انہوں نے خلافت سے عقیدت کے متعلق اپنا یہ شعر سنایا کہ آقاتر اغلام تیرے پاس ہو کبھی قدموں میں کوٹ جائے بدن گھاس ہو کبھی کہتے ہیں کہ ایک روز ایک دوستانہ نشست میں میں نے کہا طاہر صاحب! اللہ تعالیٰ نے ہر احمدی کو کسی نہ کسی رنگ میں بہت اعزاز سے نوازا ہے۔آپ کو پولیس کے محکمے میں بہت بڑے عہدے کا اعزاز ملا ہے۔کہنے لگے اس سے کہیں بڑھ کر بڑا اعزاز یہ ہے کہ میں احمدی ہوں اور پھر انہوں نے میرے ساتھ پڑھنے کا بھی حوالہ دیا کہ میں خلیفہ وقت کا کلاس فیلو بھی رہ چکا ہوں۔یہ میرے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔ان کے والد محترم مولانا محمد یار عارف صاحب نے تعلیم کی غرض سے انہیں ربوہ میں بھیجا تھا۔کالج میں بھیجا اور اس وقت کیونکہ ہمارے کالج کچھ عرصے بعد ہی نیشنلائز ہو گئے تھے تو اس لیے پھر ان کے ہوسٹل میں قیام کے بجائے انہوں نے حضرت خلیفة المسیح الثالث کو درخواست کی تھی اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث سے مولانا محمد یار عارف صاحب کا بڑا تعلق