خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 461
خطبات مسرور جلد 17 461 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 اگست 2019 یونیورسٹی سے مارک آف میرٹ کا اعزاز بھی ان کو حاصل ہوا۔لندن سے تعلیم کے بعد پاکستان آگئے اور یہاں سی ایس ایس (CSS) کا امتحان پاس کیا۔سول سروسز پاکستان سے وابستہ ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ترقی کرتے کرتے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) کے عہدے تک پہنچے اور ہمارے خلاف قانون کے بعد پاکستان کے جو حالات تھے ان حالات میں اس پوزیشن میں پہنچنا یقینا آپ کی غیر معمولی صلاحیتوں پر دلالت کرتا ہے۔پاکستان پولیس کے علاوہ ایف آئی اے اور امیگریشن انٹیلی جنس بیورو میں بھی متعین رہے ہیں۔جب آپ تعلیم کے سلسلے میں انگلستان میں مقیم تھے تو حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر چو ہدری رشید صاحب نے بچوں کی انگریزی میں جو کتابیں لکھی تھیں ان کتب کے لکھنے میں بھی ان کو معاونت کی توفیق ملی اور انہوں نے اس میں کافی خدمت کی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں کے مطالعہ کا بڑا شوق تھا اور کوئی نہ کوئی کتاب ہمیشہ ان کے زیر مطالعہ رہتی تھی۔پھر یہ کہ صرف مطالعہ نہیں باقاعدہ کتب کے نوٹس لیتے تھے اور پھر اپنے دوستوں سے ان کے مضامین پر تبادلہ خیال بھی کیا کرتے تھے۔بڑے با قاعدہ قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے، اس پر غور کرنے والے تھے اور ان کے عزیزوں میں سے تو کسی نے نہیں لکھا لیکن مجھے پتا ہے کہ ایک دفعہ باتوں باتوں میں ذکر ہوا تو تب مجھے پتا چلا کہ بڑی باقاعدگی سے یہ تہجد کے وقت اٹھنے والے اور تہجد ادا کرنے والے تھے۔دورانِ ملازمت پاکستان میں جہاں بھی مقیم رہے ہمیشہ جماعتی خدمات کے لیے حاضر رہے۔اور بڑے نڈر انسان تھے۔خدا کے فضل سے جیسا کہ میں نے کہا بڑا وسیع مطالعہ تھا اور ذہن بھی بڑا اچھا تھا اس لیے دینی مطالعہ بھی، دنیاوی مطالعہ بھی ، علم بھی بڑا تھا اس لحاظ سے یہ اپنے اس علم کو استعمال بھی کرتے تھے اور جماعتی طور پر بھی بعض معاملات میں بڑی اچھی رائے رکھتے تھے اور بڑے صائب الرائے وجو د تھے۔خلافتِ احمدیہ کے لیے بڑی غیرت رکھنے والے تھے۔بڑے مخلص اور نڈر احمدی تھے۔ساری زندگی اس کوشش میں رہے کہ خلافت احمدیہ کے سلطان نصیر بنے رہیں اور باو فاخادم سلسلہ کے طور پر زندگی گزاریں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں نے دیکھا ہے کہ اس کوشش میں اللہ تعالیٰ نے ان کو کامیاب بھی فرمایا۔میرے کلاس فیلو تھے اور بچپن سے، کالج کے زمانے سے میں ان کو جانتا تھا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس وقت سے ان کو علم حاصل کرنے کا بڑا شوق تھا۔اچھے ڈیمیٹر (debater) بھی ہوا کرتے تھے۔کالج کی ڈیبیٹوں میں حصہ لیا کرتے تھے۔مقرر اچھے تھے اور اس وقت بھی ان کا دینی علم میں نے دیکھا ہے کافی تھا۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جماعت کے خدام اور واقفین زندگی کے لیے خاص احترام اور پیار کے جذبات رکھتے تھے اور اس کے علاوہ احمدی دوستوں کی جائز مدد کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔بڑے اچھے عہدے پر فائز تھے۔اس لحاظ سے انہوں نے اپنے احمدیوں کی جو جائز مدد تھی اس کو حتی المقدور کرنے کی کوشش کی۔فضل عمر فاؤنڈیشن میں ان کی خدمات کا سلسلہ 2014 ء سے شروع ہوتا ہے۔اس وقت میں نے ان کو ڈائریکٹر فضل عمر فاؤنڈیشن مقرر کیا تھا۔پھر 2017ء میں چوہدری حمید نصر اللہ خان صاحب کی وفات کے بعد جو اس