خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 460 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 460

خطبات مسرور جلد 17 460 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 اگست 2019 لوگ ضرور ہونے چاہیں۔نہیں تو یہ اس زمین کی بد قسمتی ہے۔اس لیے تمہارا واپس جاناضروری ہے اور امیر معاویہ کو بھی یہ فرمان لکھ کر بھیجا کہ تمہیں ان یعنی حضرت عبادہ پر کوئی اختیار نہیں ہے۔(اسد الغابه في معرفة الصحابه جلد 3 صفحه 55 ، عبادة بن الصامت، دارالفکر بيروت 2003ء) بعض مسائل ہیں اگر یہ بیان کرتے ہیں یا بعض باتیں کہتے ہیں تو ان کے لیے سنا کرو اور یہ جو کہتے ہیں وہ ٹھیک کہتے ہیں۔بہر حال حضرت عبادہ کی کافی اور مزید باتیں بھی ہیں۔ان کے حوالے سے ان کی اور روایتیں ہیں جو ان شاء اللہ تعالی آئندہ خطبے میں بیان ہوں گی کیونکہ وہ زیادہ لمبی تفصیلیں ہیں۔اس پہ وقت سے زائد لگے گا۔اب میں ایک مرحوم کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جن کا جنازہ بھی میں ابھی پڑھاؤں گا۔جنازہ حاضر ہے۔وہ ہیں مکرم طاہر عارف صاحب جو 26/ اگست کو بڑی صبر آزما بیماری کے بعد یو۔کے میں بقضائے الہی وفات پاگئے تھے إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔کینسر کی تکلیف تھی ان کو اور بڑے صبر سے انہوں نے اس تکلیف کو برداشت کیا۔پہلے یہ سرکاری افسر تھے اور بڑی اونچی رینک کے افسر تھے۔وہاں سے ریٹائر ڈ ہوئے۔اس کے بعد میں نے کچھ عرصہ پہلے ، چند سال پہلے ان کو صدر فضل عمر فاؤنڈیشن بنایا تھا۔تو اس لحاظ سے آج کل یہ صدر فضل عمر فاؤنڈیشن تھے اور دینی خدمت بجالا رہے تھے۔مکرم طاہر عارف صاحب 13 / فروری 1952ء کو پیدا ہوئے اور بنیادی طور پر تو ان کا خاندان سیالکوٹ سے تھا لیکن بہر حال پھر یہ سر گودھا آکر آباد ہو گئے تھے۔مکرم طاہر عارف صاحب کے والد مکرم چوہدری محمد یار عارف صاحب مبلغ سلسلہ تھے جن کو بطور مبلغ انگلستان خدمت کی توفیق ملی۔نائب امام مسجد لندن بھی رہے۔ان کے والد محمد یار عارف صاحب ربوہ میں نائب وکیل النبشیر تحریک جدید بھی رہے۔اس طرح مولانا مکرم محمد یار عارف صاحب جو تھے وہ جماعت کے چوٹی کے مناظر اور جید علماء میں شمار ہوتے تھے۔23 مارچ 1940ء کو جس جلسے میں قرار داد پاکستان منظور ہوئی تھی اس میں حضرت مولانا عبد الرحیم نیزر کے همراه با راه بطور نمائندہ جماعت احمدیہ مکرم محمد یار عارف صاحب بھی شامل ہوئے تھے یعنی طاہر عارف صاحب کے والد اور یہ بھی ان کو بہر حال ایک تاریخی سعادت حاصل ہوئی تھی۔طاہر عارف صاحب کی والدہ محترمہ عنایت ثریا بیگم تھیں۔اور ان کے دادا حضرت چوہدری غلام حسین بھٹی صاحب سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔طاہر عارف صاحب بڑے علمی اور ذوق رکھنے والے آدمی تھے اور بڑے کہنہ مشق ادیب بھی تھے اور شاعر بھی تھے۔کئی کتابیں بھی انہوں نے تصنیف کی ہیں۔ان کے دوشعری مجموعے مشہور ہیں۔ایک اردو کا اور ایک پنجابی کا۔اس کے علاوہ دو اور کتابیں بھی ان کی کافی اچھی ہیں۔ایک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر انگریزی میں کتاب لکھی انہوں نے "محمد صلی اللہ علیہ وسلم " اور ایک اور کتاب ہے پاکستان کے بارے میں پاکستان منزل بہ منزل" یہ ان کی دوسری کتاب ہے۔انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم۔اے اکنامکس کرنے کے بعد وہیں ایل۔ایل بی کی ڈگری بھی لی۔پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان آگئے۔لنڈن سکول آف اکنامکس سے ایل ایل ایم (LLM) کی ڈگری حاصل کی اور اللہ کے فضل سے لنڈن