خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 459 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 459

خطبات مسرور جلد 17 459 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 اگست 2019 ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبادہ کو بعض صدقات کا عامل بنایا اور انہیں نصیحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا۔کہیں ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن تم اونٹ کو اپنے اوپر لادے ہوئے ہو اور وہ بلبلاتا ہو یا گائے کو لادے ہوئے آؤ اور اس کی آواز نکل رہی ہو یا بکری کو لادے ہوئے آؤ اور وہ ممیاتی ہو یعنی کہیں خیانت نہ ہو جائے۔ایسا نہ ہو کہ صدقات کی صحیح طرح حفاظت نہ کر سکو اور اس زمانے میں جو صدقات آتے تھے۔زکوۃ میں یا صدقات میں اونٹ گائے بکریاں وغیرہ جو چیزیں آرہی ہیں یہ نہ ہو کہ ان کی تقسیم کا اور ان کی حفاظت کا تم صحیح طرح حق نہ ادا کر سکو اور پھر قیامت کے دن وہی چیزیں تمہارے پہ بوجھ بن جائیں گی۔حضرت عُبادہ بن صامت نے یہ سن کے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں تو دو آدمیوں پر بھی عامل نہ بنوں گا۔میری تو یہ حالت ہے کہ میں تو کسی کا کوئی بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔اس لیے مجھے تو نہ ہی بنائیں تو ٹھیک ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں انصار میں سے پانچ آدمیوں نے قرآن کو جمع کیا تھا جن کے نام یہ ہیں۔حضرت معاذ بن جبل، حضرت عبادہ بن صامت، حضرت ابی بن کعب، حضرت ابو ایوب انصاری اور حضرت ابو در دا۔رض (اسد الغابه في معرفة الصحابه جلد 3 صفحه 55 ، دارالفکر بيروت 2003ء) حضرت یزید بن سفیان نے فتح شام کے بعد حضرت عمر کو لکھا کہ اہل شام کو ایسے معلم کی ضرورت ہے جو انہیں قرآن سکھائے اور دین کی سمجھ بوجھ دے تو حضرت عمرؓ نے حضرت معاذ، حضرت عبادہ اور حضرت ابو دردا کو بھیجا۔حضرت عبادہ نے جاکر فلسطین میں قیام کیا۔جنادہ سے مروی ہے کہ میں جب حضرت عبادہ کے پاس حاضر ہوا تو میں نے انہیں اس حالت میں پایا کہ انہیں اللہ کے دین کی خوب سمجھ تھی۔یعنی بڑے صاحب علم (الاصابه في تمييز الصحابه جلد3 صفحه 507، عبادة بن صامت، دار الكتب العلميه بيروت،2005ء) جب مسلمانوں نے ملک شام کو فتح کیا تو حضرت عمر نے حضرت عبادہ اور ان کے ساتھ حضرت معاذ بن جبل اور حضرت ابو در دانا کو شام بھجوایا تا کہ وہاں لوگوں کو قرآن کریم کی تعلیم دیں اور ان کو دین سکھائیں۔حضرت عُبادہ نے حمص میں قیام کیا اور حضرت ابو دردائر نے دمشق میں قیام کیا اور حضرت معاذ فلسطین کی طرف چلے گئے پھر کچھ دیر بعد حضرت عبادہ بھی فلسطین چلے گئے۔وہاں امیر معاویہ نے ایک معاملہ میں یعنی دین کے معاملے میں مخالفت کی جس کو حضرت عبادہ نا پسند کرتے تھے۔کسی دینی مسئلے میں اختلاف تھا۔امیر معاویہ نے ان سے اس پر سخت کلامی کی تو حضرت عبادہ نے کہا کہ میں ہر گز آپ کے ساتھ ایک سر زمین میں نہ رہوں گا۔پھر وہ مدینے چلے گئے تو حضرت عمر نے پوچھا کہ تمہیں کیا چیز ادھر لے آئی ہے۔حضرت عبادہ نے حضرت عمررؓ کو ساری بات بتائی کہ اس طرح اختلاف ہو ا تھا اور پھر انہوں نے میرے ساتھ بڑی سخت کلامی کی ہے۔بہر حال اختلاف کی وجہ سے وہ واپس آئے۔اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ تم اپنی جگہ واپس چلے جاؤ اور اللہ ایسی زمین کو خراب کر دے گا جس میں تم یا تمہارے جیسا کوئی اور نہ ہوا۔یعنی صاحب علم لوگ، دین کا علم رکھنے والے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پرانے صحابہ میں سے