خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 458
خطبات مسرور جلد 17 458 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 اگست 2019 دیر ہوئی تو حضرت عمرو بن عاص نے حضرت عمرؓ کو مزید مدد کے لیے خط لکھا۔حضرت عمر نے چار ہزار فوج روانہ کی جس میں سے ایک ہزار فوج کے افسر حضرت عبادہ تھے اور جواب میں لکھا کہ ان افسروں میں سے ہر شخص ایک ہزار آدمیوں کے برابر ہے۔یہ مدد مصر پہنچی تو حضرت عمرو بن عاص نے تمام فوج کو یکجا کر کے ایک پر اثر تقریر کی اور حضرت عبادہ کو بلا کر کہا کہ اپنا نیزہ مجھ کو دیجیے اور خود انہوں نے ، عمرو بن عاص نے ، اپنے سر سے اپنا عمامہ اتارا اور نیزے پر لگا کر ان کے حوالے کیا کہ یہ سپہ سالار کا علم ہے، سپہ سالار کا جھنڈا ہے اور آج آپ سپہ سالار ہیں۔خدا کی شان کہ اس کے بعد پہلے ہی حملے میں شہر فتح ہو گیا۔(ماخوذ از سیر الصحابہ مصنفہ سعید انصاری جلد 3 حصہ 2 صفحہ 402 ، دار الاشاعت کراچی 2004ء) حضرت ابو عبیدہ بن جراح فتح دمشق کے بعد حمص آئے اور یہاں کے باشندوں نے ان سے صلح کر لی اس کے بعد انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت انصاری کو حمص پر نگران مقرر کیا اور خود حُماة کی طرف بڑھے۔حضرت عبادہ بن صامت نے نے بعد میں لاذقیہ کی طرف کوچ کیا جو ملک شام میں ساحل سمندر پر واقع ایک شہر ہے۔اس کے باشندوں نے مسلمانوں سے جنگ کی۔وہاں ایک بہت بڑا دروازہ تھا جو لوگوں کی ایک بڑی جماعت کے بغیر نہیں کھلتا تھا۔حضرت عبادہ لشکر کو شہر سے دور لے گئے اور اسے ایسے گڑھے کھودنے کا حکم دیا جس میں ایک آدمی اور اس کا گھوڑا اچھی طرح چھپ جائیں۔لمبی خندق کھو دیں۔مسلمانوں نے گڑھے کھودنے میں بڑی کوشش کی اور جب اس کام سے فارغ ہو چکے تو دن کی روشنی میں حمص کی جانب واپس جانا ظاہر کیا اور جب رات چھا گئی تو یہ لوگ اپنی چھاؤنی اور اپنی خند قوں کی طرف واپس آئے جو کھودی تھیں۔اہل لاذقیہ دھوکے میں یہ سمجھتے رہے کہ وہ ان کو چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔جب دن چڑھا تو انہوں نے اپنا دروازہ کھولا اور اپنے مویشی لے کر نکلے۔مسلمان دفعہ نمودار ہوئے جنہیں دیکھ کر وہ لوگ دہل گئے۔مسلمانوں نے ان پر چڑھائی کر دی اور دروازے سے شہر میں داخل ہو گئے اور اس کو فتح کر لیا۔حضرت عُبادہ قلعے میں داخل ہوئے۔اس کی دیوار پر چڑھے اور اسی پر سے تکبیر کہی۔لاذقیہ کے نصاری میں سے ایک قوم یسند کی طرف بھاگ گئی۔پھر ان لوگوں نے اس پر امان چاہی کہ انہیں ان کی زمین کی طرف واپس آنے دیا جائے۔پہلے تو ڈر کے چلے گئے لیکن پھر انہوں نے کہا کہ ہمیں امان دیں اور ہم واپس آنا چاہتے ہیں۔چنانچہ خراج کی ادائیگی پر زمین ان کے حوالے کر دی گئی کہ ایک حصہ آمد کا تم دوگے اور ان کو ان کی زمین واپس کر دی اور ان کی معبد گاہ ان کے لیے چھوڑ دی گئی۔جہاں وہ عبادت کرتے تھے وہ بھی ان کو واپس کر دی گئی کہ ٹھیک ہے تم جس طرح چاہتے ہو اپنی عبادت کرو۔مسلمانوں نے لاذقیہ میں حضرت عبادہ کے حکم سے ایک مسجد بنائی جو بعد میں وسیع کی گئی۔حضرت عبادہ اور مسلمان سمندر کے کنارے پہنچے اور بندہ نام کا ایک شہر فتح کیا جو جبکہ قلعہ سے دو فرسخ یعنی چھ میل کے فاصلے پر تھا۔حضرت عبادہ اور ان کے ساتھی مسلمانوں نے پھر کافی فتوحات کی ہیں۔ان کے ذریعہ سے انظر طوس فتح ہوا جو ملک شام میں سمندر کے کنارے واقع ایک شہر ہے۔اسی طرح پھر ملک شام کے علاقے لاذقیه، جَبَلَهُ، بَلْدَة انْطَرِ طُوس حضرت عبادہ بن صامت کے ہاتھوں فتح ہوئے۔(فتوح البلدان صفحه 83 تا 85 امر حمص دار الكتب العلمية بيروت 2000ء) (معجم البلدان جلد4 صفحه 169 "اللاذقیه" دارا احياء التراث العربی بیروت لبنان) (معجم البلدان جلد اول صفحه 320"انطرطوس" مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت)