خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 457
خطبات مسرور جلد 17 457 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 اگست 2019 بیعت کرو کہ تم کسی چیز کو بھی اللہ کا شریک نہیں ٹھہر اؤگے۔نہ ہی چوری کرو گے اور نہ ہی اولاد کو قتل کرو گے اور تم دیدہ و دانستہ بہتان نہیں باند ھو گے اور نہ معروف بات میں تم نافرمانی کروگے۔پس جس نے بھی تم میں سے یہ عہد پورا کیا اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا اور جس نے ان بدیوں میں سے کوئی بدی کی اور پھر دنیا میں اسے سزا مل گئی تو یہ سزا اس کے لیے کفارہ ہو گی اور جس نے ان بدیوں میں سے کوئی بدی کی اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی فرمائی تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔اللہ چاہے تو اس سے درگزر کرے اور چاہے تو اسے سزا دے۔سو ہم نے ان باتوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔یہ بخاری کی روایت ہے۔(صحيح البخارى كتاب الايمان باب علامة الايمان حب الانصار حديث 18) ہجرت مدینہ کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قبا میں نماز جمعہ ادا فرمائی تو نماز جمعہ پڑھنے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی طرف جانے کے لیے اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی لگام ڈھیلی چھوڑ دی اور اس کو کوئی حرکت نہ دی۔اونٹنی دائیں اور بائیں اس طرح دیکھنے لگی کہ جیسے وہ چلنے کے لیے کسی سمت اور کسی رخ کا فیصلہ کر رہی ہے کہ میں کدھر جاؤں۔یہ کھڑی تھی، دائیں بائیں دیکھ رہی تھی اور آگے نہیں چل رہی تھی۔یہ دیکھ کر بنو سالم کے لوگوں نے یعنی جن کے محلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کی نماز پڑھی تھی انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا۔ان میں عتبان بن مالک اور نوفل بن عبد اللہ بن مالک اور عُبادہ بن صامت بھی تھے۔انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم۔ہمارے ہاں قیام فرمائیے۔یہاں اس علاقے میں لوگوں کی تعداد بھی زیادہ ہے اور عزت و حفاظت بھی پوری ہو گی۔ہم پوری طرح عزت بھی کریں گے ، آپ کی حفاظت بھی کریں گے اور یہاں ہیں بھی ہم زیادہ مسلمان۔ایک روایت میں یہ لفظ بھی ہے کہ یہاں دولت اور ثروت بھی ہے۔ہمارے لوگ بڑے کشائش والے ہیں۔پیسے ہمارے پاس ہیں۔ایک روایت میں یوں ہے کہ ہمارے قبیلے میں اتریے، ہم تعداد میں بھی زیادہ ہیں اور ہمارے پاس ہتھیار بھی ہیں۔نیز ہمارے پاس باغات اور زندگی کی ضروریات بھی ہیں۔یعنی کہ حفاظت بھی ہم کر سکتے ہیں۔مالی لحاظ سے بھی ہم بہتر ہیں۔پھر انہوں نے کہا کہ یارسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وسلم) جب کوئی خوف اور دہشت کا مارا ہوا عرب اس علاقے میں آجاتا ہے تو وہ ہمارے ہاں ہی آکر پناہ ڈھونڈتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ساری باتیں سن لیں۔ان کے لیے خیر کے کلمات عطا فرمائے اور فرمایا تمہاری باتیں ، تمہارا سب کچھ ٹھیک ہے۔اور فرمایا کہ اونٹنی کا راستہ چھوڑ دو کیونکہ آج یہ مامور ہے۔اس نے جہاں بھی جانا ہے، رکنا ہے، بیٹھنا ہے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہی جائے گی۔ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اونٹنی مامور ہے اس لیے اس کا رستہ چھوڑ دو۔آپ مسکراتے ہوئے یہ فرمار ہے تھے کہ جو بھی تم نے پیشکش کی ہے اللہ تم پر اپنی برکت نازل فرمائے۔پھر اونٹنی وہاں سے چل پڑی۔(السيرة الحلبية الجزء الثانى صفحه 83 ، باب الهجرة الى المدينة، دار الكتب العلميه بيروت 2002ء) فتح مصر کے متعلق "سیر الصحابہ " کا مصنف جو ہے لکھتا ہے کہ خلافت فاروقی میں مصر کے فتح ہونے میں