خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 456 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 456

خطبات مسرور جلد 17 456 فرمودہ مورخہ 30 اگست 2019 قو قل کہا جاتا تھا۔اسی طرح خزرج کے سردار غنم بن عوف کو بھی قو قل کہا جاتا تھا۔اسی طرح حضرت عبادہ بن صامت بھی قوقل کے لقب سے مشہور تھے۔بنو سالم، بنو غنم اور بنو عوف بن خزرج کو بھی قو اقلہ کہا جاتا تھا۔بنو عوف کے سردار حضرت عُبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ تھے۔(اسد الغابه فى معرفة الصحابه لا بن اثیر جلد 3 صفحه 158 159 عبادة بن الصامت، دارالکتب العلميه بیروت 2008ء) ( الطبقات الكبرى لابن سعد الجزء الثالث صفحه 414 النعمان بن م مالك ، دار الكتب العلمية بيروت لبنان 2012ء) (السيرة النبوية لابن هشام صفحه 309 ، العقبة الاولى ومصعب بن عمیر۔۔۔، دارالکتب العلمية 2001ء) (تاج العروس زير ماده ”قتل“ جلد 15 صفحه 627 باب اللام مطبوعه دار الفكر بيروت 1994ء) حضرت عبادہ کے ایک بیٹے کا نام ولید تھا جس کی والدہ کا نام جمیلہ بنت ابو صعصعہ تھا۔دوسرے بیٹے کا نام محمد تھا جس کی والدہ کا نام حضرت ام حرام بنت ملحان تھا۔حضرت اوس بن صامت * حضرت عبادہ کے بھائی تھے۔حضرت اوس بھی بدری صحابی تھے۔الطبقات الكبرى الجزء الثالث صفحه 280-281 ، عُبادہ بن صامت دار احياء التراث العربي بيروت 1996ء) جب حضرت ابو مرشد عنوی ہجرت کر کے مدینہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبادہ کے ساتھ ان کی مؤاخات قائم فرمائی۔حضرت عبادہ غزوہ بدر، احد، خندق اور تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک تھے۔حضرت عبادہ 134 ہجری میں رملہ فلسطین میں فوت ہوئے۔بعض کے مطابق بیت المقدس میں فوت ہوئے اور وہیں تدفین ہوئی اور ان کی قبر آج بھی معروف ہے۔ایک روایت کے مطابق حضرت عبادہ کی وفات قبرص میں ہوئی جبکہ وہ حضرت عمرؓ کی طرف سے اس پر والی بنا کر بھیجے گئے تھے۔وفات کے وقت ان کی عمر 72 سال تھی۔ان کا قد لمبا جسم فربہ اور بہت خوبصورت تھا۔بعض کے مطابق ان کی وفات پینتالیس ہجری میں امیر معاویہ کے دور میں ہوئی مگر پہلا قول زیادہ صحیح ہے جس میں ان کی وفات جو ہے وہ 134 ہجری میں فلسطین میں ہوئی نہ کہ 45 ہجری۔(اسد الغابه فى معرفة الصحابه جلد 3 صفحه 55-56 ، دارالفکر بيروت (2003ء) (الاستيعاب في معرفة الاصحاب جلد2 صفحه 355، عُبادہ بن صامت، دار الكتب العلميه بيروت (2002ء) (شرح مسند الشافعی از عبد الکریم بن محمد قزوینی جزء2 صفحه 165 مطبوعه ادارة الشؤون الاسلاميه قطر 2007ء از مکتبه الشامله) حضرت عُبادہ بن صامت کی روایات کی تعداد ایک سو اکاسی (181) تک پہنچتی ہے۔احادیث کی مختلف روایات ان سے ہیں جس کے روایت کرنے والے اکابر صحابہ اور تابعین ہیں۔چنانچہ صحابہ کرام میں سے حضرت انس بن مالک، حضرت جابر بن عبد اللہ ، حضرت مقدام بن معدی گربے وغیرہ ہیں۔(سیر الصحابہ جلد 3 صفحہ 405 ، دارالاشاعت اردو کراچی 2004ء) راوی کہتے ہیں کہ حضرت عبادہ جنگ بدر میں شامل ہوئے تھے اور عقبہ کی رات یہ بھی سرداروں میں سے ایک سردار تھے کہ حضرت عُبادہ بن صامت نے بیان کیا ہے۔یہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا ایک گروہ تھا فرمایا کہ مجھ سے اس بات پر