خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 455 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 455

خطبات مسرور جلد 17 455 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 اگست 2019 لیکن غزوہ بدر میں نہیں۔لیکن بخاری نے حضرت عقبہ بن مسعودؓ کا ذکر بدری صحابہ میں کیا ہے۔حضرت عقبہ بن مسعودؓ کی حضرت عمر بن خطاب کے دورِ خلافت میں 23 ہجری میں مدینے میں وفات ہوئی اور حضرت عمرؓ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔قاسم بن عبد الرحمن سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے حضرت عتبہ بن مسعودؓ کی نماز جنازہ میں ان کی والدہ حضرت ام عبد کا انتظار کیا کہ وہ بھی شامل ہو جائیں۔(الطبقات الكبرى لابن سعد الجزء الرابع صفحه 382 عُتبه بن مسعود وَمِنْ حُلَفَاءِ بنى زهرة ـ داراحياء التراث العربی بیروت لبنان 1996ء) (البداية والنهاية لابن کثیر جلد 4 جزء 7 صفحه 138 ، ثم دخلت سنة ثلاث وعشرين، دار الکتب العلميه 2001ء) امام زہری سے منقول ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود صحبت اور ہجرت کے لحاظ سے اپنے بھائی حضرت عقبہ سے زیادہ قدیم نہ تھے۔یعنی حضرت عقبہ بن مسعودؓ زیادہ پرانے صحابی تھے۔عبد اللہ بن عقبہ سے روایت ہے کہ جب حضرت عقبہ بن مسعود کا انتقال ہوا تو آپ کے بھائی حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔بعض لوگوں نے آپ سے کہا کہ کیا آپ روتے ہیں ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ میرے بھائی تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں میرے ساتھی تھے اور حضرت عمر بن خطاب کے علاوہ سب لوگوں سے زیادہ مجھ کو محبوب تھے۔(اسد الغابه فى معرفة الصحابه المجلد الثالث صفحه 563 عُتبه بن "مسعود دار الكتب العلميه بيروت لبنان 2008ء) ایک اور روایت میں ہے کہ جب حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے پاس ان کے بھائی حضرت عقبہ بن مسعودؓ کی وفات کی خبر پہنچی تو ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور انہوں نے کہا کہ اِن هَذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ لَا يَمْلِكُهَا ابن آدم۔کہ یقیناً یہ رحمت ہے جسے اللہ نے پیدا کیا ہے اور ابنِ آدم اس کو قابو کرنے پر قادر نہیں۔الطبقات الكبرى جلد 4 صفحه 381 382 عُتبه بن مسعود " وَمِنْ حُلَفَاءِ بنى زهرة - دار احياء التراث العربي بيروت لبنان 1996ء) یعنی یہ موت برحق ہے اور نیک لوگوں کے لیے تو پھر رحمت بن جاتی ہے۔ایک روایت کے مطابق حضرت عمر بن خطاب حضرت عقبہ بن مسعودؓ کو امیر مقامی بھی بنایا کرتے تھے۔(الاصابه في تمييز الصحابه جلد 4 صفحه 366 " عُتبه بن مسعود الهذلي "دارالفکر بيروت 2001ء) اگلے جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام حضرت عبادہ بن صامت ہے۔یہ انصاری تھے۔حضرت عبادہ کے والد کا نام صامت بن قیس اور والدہ کا نام قرۃ العین بنت عُبادہ تھا۔بیعت عقبہ اولیٰ اور ثانیہ میں یہ شریک تھے۔انصار کے قبیلہ خزرج کے خاندان بنو عوف بن خزرج کے سردار تھے جو قوا قل کے نام سے مشہور تھے۔قو قن نام کی جو وجہ ہے وہ یہ ہے کہ جب مدینے میں کسی سردار کے پاس کوئی شخص پناہ کا طلب گار ہو تا تو اس سے یہ کہا جاتا تھا کہ اس پہاڑ پر جیسے مرضی چڑھ۔اب تو امن میں ہے یعنی تجھے کوئی مشکل نہیں۔جہاں جس طرح مرضی رہ یعنی تو اس حالت میں ٹوٹ جا کہ تو فراخی محسوس کر اور اب کسی بھی چیز کا خوف نہ کھا۔اور وہ لوگ جو پناہ دینے والے تھے وہ قوا قبلہ کے نام سے مشہور تھے۔ابنِ ہشام کہتے ہیں کہ ایسے سردار جب کسی کو پناہ دیتے تو اسے ایک تیر دے کر کہتے کہ اس تیر کو لے کر اب جہاں مرضی جاؤ۔حضرت نعمان کے دادا تغلبہ بن دغد کو