خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 30
خطبات مسرور جلد 17 30 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 جنوری 2019 در میان مواخات قائم کروائی تھی۔حضرت عامر بن فیئر غزوہ بدر اور احد میں شریک تھے اور بئر معونہ کے موقع پر چالیس سال کی عمر میں ان کی شہادت ہوئی۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 174 عامر بن فهيرة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) حضرت ابو بکر نے ہجرت سے قبل سات ایسے غلاموں کو آزاد کروایا تھا جن کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں تکلیف دی جاتی تھی جن میں سے ایک حضرت بلال تھے اور حضرت عامر بن فہیرۃ بھی شامل تھے۔(اسد الغابه جلد 3 صفحه 319 عبد الله بن عثمان ابو بكر الصديق مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) ہجرت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دن ہم حضرت ابو بکر کے گھر ٹھیک دوپہر کے وقت بیٹھے ہوئے تھے ، یعنی اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے۔کسی کہنے والے نے حضرت ابو بکر سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر کپڑا اوڑھے ہوئے آرہے ہیں۔آپ ایسے وقت آئے کہ جس میں آپ ہمارے پاس نہیں آیا کرتے تھے۔حضرت ابو بکر نے کہا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ! خدا کی قسم آپ جو اس وقت تشریف لائے ہیں تو ضرور کوئی بڑا کام ہے۔کہتی تھیں اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہنچ گئے اور جب آپ پہنچے تو اندر آنے کی اجازت مانگی۔حضرت ابو بکر نے اجازت دی۔آپ اندر آئے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر سے کہا جو تمہارے پاس ہیں انہیں باہر بھیج دو۔حضرت ابو بکر نے کہا یارسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان گھر میں تو صرف آپ ہی کے گھر والے ہیں یعنی عائشہ اور ان کی والدہ انتم رومان۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ہجرت کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔حضرت ابو بکر نے کہا یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلئے۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں تم بھی میرے ساتھ چلو۔پھر حضرت ابو بکر نے کہا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ! ساتھ چلنا ہے تو پھر میری ان دو سواری کی اونٹنیوں میں سے ایک آپ لے لیجئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں قیمتالوں گا۔حضرت عائشہ کہتی تھیں چنانچہ ہم نے جلدی سے دونوں کا سامان تیار کر دیا اور ہم نے ان کے لئے توشہ تیار کر کے چمڑے کے تھیلے میں ڈال دیا۔حضرت ابو بکر کی بیٹی حضرت اسماء نے اپنے کمر بند سے ایک ٹکڑہ کاٹ کر تھیلے کے منہ کو اس سے باندھا اس لئے ان کا نام ذَاتُ النِّطاق ہو گیا۔کہتی تھیں کہ پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر ثور پہاڑ کے ایک غار میں جا پہنچے اور اس میں تین راتیں چھپے رہے۔حضرت عبد اللہ بن ابو بکر ان دونوں کے پاس جا کر رات ٹھہر تے اور اس وقت وہ چالاک اور ہوشیار جوان تھے یعنی کہ اچھی ہوش و حواس میں تھے اور اند ھیرے میں ہی ان کے پاس سے چلے آتے تھے۔صبح صبح اندھیرے منہ ہی واپس آجاتے تھے اور مکہ میں قریش کے ساتھ ہی صبح کرتے تھے جیسے وہیں رات گزاری ہے۔جو تدبیر بھی ان کے متعلق یعنی کفار کے متعلق سنتے وہ اس کو اچھی طرح سمجھ لیتے اور جب اندھیرا ہو جاتا تو غار میں پہنچ کر ان کو بتادیتے۔مکہ میں جو سارا دن رہتے تھے تو کفار کے جو بھی منصوبے تھے وہ شام کو آپ کو بتایا کرتے تھے۔حضرت ابو بکر کا غلام عامر بن فنيرة بکریوں کے ریوڑ میں سے ایک دودھیل بکری ان کے پاس چر اتارہتا اور جب عشاء کے وقت سے کچھ گھڑی گزر جاتی تو وہ بکری ان کے پاس لے آتا اور وہ دونوں تازہ دودھ