خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 453 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 453

خطبات مسرور جلد 17 453 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 اگست 2019 بھی کرنی چاہیے۔ایک بار اہل صفہ کی ایک جماعت نے بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں شکایت کی کہ کھجوروں نے ہمارے پیٹ کو جلا دیا ہے۔صرف کھجوریں ہی کھانے کو ملتی ہیں اور تو کچھ ملتا نہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شکایت سنی تو ان کی دل دہی کے لیے ایک تقریر کی جس میں فرمایا: یہ کیا ہے کہ تم لوگ کہتے ہو کہ ہمارے پیٹوں کو کھجوروں نے جلا دیا ہے۔کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کھجور ہی اہل مدینہ کی غذا ہے لیکن لوگ اسی کے ذریعہ سے ہماری مدد بھی کرتے ہیں اور ہم بھی انہی کے ذریعہ سے تمہاری مدد کرتے ہیں۔پھر آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم ! ایک یا دو مہینے سے اللہ کے رسول کے گھر میں دھواں نہیں اٹھا۔یعنی میں نے بھی اور میرے گھر والوں نے بھی صرف پانی اور کھجور پر بسر اوقات کی ہے۔بہر حال یہ اصحاب صفہ عجیب فدائی لوگ تھے۔کھجور کے کھانے کا ذکر تو کیا، شکوہ تو کیا کہ اس نے پیٹ کو جلا دیا ہے لیکن جگہ نہیں چھوڑی۔وہ کامل وفا کے ساتھ وہیں بیٹھے رہتے تھے اور اسی چیز ، فاقوں پر یا پھر کھجوروں پر یا جو بھی مل جاتا تھا اس پر گزارا کرتے تھے۔پھر لکھا ہے کہ ان بزرگوں کا مشغلہ یہ تھا کہ راتوں کو عموماً عبادت کرتے تھے اور قرآن مجید پڑھتے رہتے۔ان کے لیے ایک معلم مقرر تھا جس کے پاس رات کو جا کر یہ پڑھتے تھے۔جن کو پڑھنا نہیں آتا تھا یا قرآن کریم صحیح طرح پڑھ نہیں سکتے تھے یا یاد کرنا چاہتے ہوں گے تو معلم ان کو رات کو پڑھا تا تھا۔اس بنا پر ان میں سے اکثر قاری کہلاتے تھے اور اشاعت اسلام کے لیے کہیں بھیجنا ہو تا تو یہی لوگ بھیجے جاتے تھے۔جب یہ پڑھ لکھ گئے تو پھر یہ قاری بھی کہلانے لگ گئے اور پھر دوسروں کو تعلیم دینے کے لیے بھی ان کو بھیجا جاتا تھا۔بعد میں انہی اصحاب میں سے بہت سے بڑے بڑے عہدوں پر بھی فائز ہوئے یعنی اصحاب صفہ جو تھے یہ نہیں کہ بعد میں وہیں بیٹھے رہے بلکہ عہدوں پر، بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہوئے۔چنانچہ حضرت ابو ہریرہ حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں بحرین کے گورنر رہے تھے۔پھر حضرت معاویہؓ کے دور میں مدینہ کے گورنر رہے۔حضرت سعد بن ابی وقاص بصرہ کے گورنر رہے اور کوفہ شہر کی بنیاد آپ نے ڈالی۔حضرت سلمان فارسی مدائن کے گورنر رہے۔حضرت عمار بن یاسر کوفہ کے گورنر رہے۔یہ سب اصحاب صفہ میں شامل تھے۔حضرت عبادہ بن جراح فلسطین کے گورنر رہے۔حضرت انس بن مالک حضرت عمر بن عبد العزیز کے دور میں مدینے کے گورنر رہے۔انہی میں سے ایک سپہ سالار بھی تھے جنہوں نے فتوحات اسلامیہ میں ایک نمایاں کردار ادا کیا۔حضرت زید بن ثابت نہ صرف سپہ سالار تھے بلکہ حضرت عمرؓ کے دور میں قاضی القضاۃ کے عہدے پر بھی متعین رہے۔(ماخوذ از سیر الصحابہ جلد پنجم صفحہ 548 تا550 دارالاشاعت کراچی 2004ء) (ماخوز از جستجوئے مدینہ از عبد الحمید قادری صفحہ 672،681) حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ میں غریب مہاجرین کی جماعت میں جا بیٹھا یعنی انہی اصحاب صفہ کی جماعت میں جو نیم برہنگی کے باعث ایک دوسرے سے ستر چھپارہے تھے یا تقریباً آدھا جسم ان کا نگا تھا اور اس حد تک تھا کہ مشکل سے اپنی ستر چھپارہے تھے۔پھر کہتے ہیں کہ ہم میں سے ایک قاری قرآن کی تلاوت کر رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے تو قاری خاموش ہو گئے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور دریافت فرمایا کہ تم کیا کر رہے ہو ؟ ہم نے عرض کیا کہ یہ قاری رض