خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 452 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 452

خطبات مسرور جلد 17 452 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 اگست 2019 حالت تنگ رہتی تھی اور بسا اوقات فاقے تک نوبت پہنچ جاتی تھی اور یہ حالت کئی سال تک جاری رہی حتی کہ کچھ تو مدینے کی آبادی کی وسعت کے نتیجے میں ان لوگوں کے لیے کام نکل آیا اور کچھ نہ کچھ مزدوری مل جاتی تھی اور کچھ قومی بیت المال سے ان کی امداد کی صورت پیدا ہو گئی۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 270) بہر حال ان لوگوں کے بارے میں دوسری جگہ مزید تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ یہ لوگ دن کو بار گاہِ نبوت میں حاضر رہتے اور حدیثیں سنتے۔رات کو ایک چبوترے پر پڑے رہتے۔عربی زبان میں چبوترے کو صفہ کہتے ہیں اور اسی بنا پر ان بزرگوں کو اصحاب صفہ کہا جاتا ہے۔ان میں سے کسی کے پاس چادر اور تہ بند دونوں چیزیں کبھی ایک ساتھ جمع نہ ہو سکیں۔چادر کو گلے سے اس طرح باندھ لیتے تھے کہ رانوں تک لٹک آتی تھی، کپڑے پورے نہیں ہوتے تھے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ انہی بزرگوں میں سے تھے۔ان کا بیان ہے کہ میں نے اہل صفہ میں سے ستر اشخاص کو دیکھا کہ ان کے کپڑے ان کی رانوں تک بھی نہیں پہنچتے تھے، جسم پر کپڑا لپیٹتے تھے تو وہ گھٹنوں سے او پر مشکل سے پہنچتا تھا۔پھر کہتے ہیں کہ معاش کا طریقہ یہ تھا کہ ان میں ایک ٹولی دن کو جنگل سے لکڑیاں چن کر لاتی اور بیچ کر اپنے بھائیوں کے لیے کچھ کھانا مہیا کرتی۔اکثر انصار کھجور کی شاخیں توڑ کر لاتے اور مسجد کی چھت میں لڑکا دیتے۔باہر کے لوگ آتے اور ان کو دیکھتے تو سمجھتے کہ یہ دیوانے ہیں۔بے وقوف لوگ ہیں۔بلاوجہ یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔یا یہ بھی سمجھتے ہوں گے کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے دیوانے ہیں کہ آپ کا دَر چھوڑنا نہیں چاہتے۔بہر حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے صدقہ آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس بھیج دیتے اور جب دعوت کا کھانا آتا تو ان کو بلا لیتے اور ان کے ساتھ بیٹھ کر کھاتے۔اکثر ایسا ہو تا کہ راتوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کو مہاجرین و انصار پر تقسیم کر دیتے یعنی اپنے مقدور کے موافق ہر شخص ایک ایک دو دو اپنے ساتھ لے جائے اور رات کو ان کو کھانا کھلائے۔بعض دفعہ ایسے موقعے بھی ہوتے تھے کہ کسی کو بعض مہاجرین کے سپرد کر دیا۔کسی کو انصار کے سپر د کر دیا کہ رات کا کھانا ان کو دینا ہے۔حضرت سعد بن عبادہ ایک صحابی تھے جو نہایت فیاض اور دولت مند تھے وہ کبھی کبھی اتنی اتنی مہمانوں کو اپنے ساتھ لے جایا کرتے تھے۔اسی مہمانوں تک ساتھ لے جاتے۔رات کو ان کو کھانا کھلاتے تھے۔ان کی کشائش تھی۔مختلف روایتوں کے مطابق یا بعض روایتوں کے مطابق اہل صفہ کی تعداد مختلف وقتوں میں مختلف رہی تھی۔کم سے کم بارہ افراد اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ یہاں تک کہ تین سو افراد ایک وقت مقام صفہ میں مقیم رہے تھے بلکہ ایک روایت میں ان کی کل تعداد چھ سو صحابہ کرام بتائی گئی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے ساتھ نہایت اُنس تھا۔ان کے ساتھ مسجد میں بیٹھتے۔ان کے ساتھ کھانا کھاتے اور لوگوں کو ان کی تعظیم و تکریم پر آمادہ کرتے۔یعنی یہ نہیں کہ یہ بیٹھے ہوئے ہیں، فارغ ہیں تو ان کی عزت نہ کی جائے، ان کا احترام نہ کیا جائے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ یہ لوگ ہیں جو میرے لیے ، میری باتیں سننے کے لیے بیٹھتے ہیں اس لیے ہر ایک کو ان کی صحیح طرح تعظیم بھی کرنی چاہیے ، عزت