خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 451 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 451

خطبات مسرور جلد 17 451 35 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 اگست 2019 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 30 اگست 2019ء بمطابق 30 / ظهور 1398 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفور ڈسرے(برطانیہ) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بدری صحابہ کے ذکر میں آج میں جن صحابی کا پہلے ذکر کروں گا ان کا نام ہے حضرت عقبہ بن مسعود ھذ لی۔حضرت عقبہ بن مسعود ھذلی کی کنیت ابو عبد اللہ تھی۔آپ قبیلہ بنوھذیل سے تھے۔(اسد الغابه فى معرفة الصحابه المجلد الثالث صفحه 563 عتبه بن مسعود دارالکتب العلميه بيروت لبنان 2008ء) حضرت عقبہ بن مسعودؓ قبیلہ بنو زھرہ کے حلیف تھے۔آپ کے والد کا نام مسعود بن غافل تھا اور آپ کی والدہ کا نام انتم عند بنت عبد وڈ تھا۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ آپ کے حقیقی بھائی تھے۔آپ مکے میں ابتدائی اسلام لانے والوں میں سے تھے۔حبشہ کی طرف دوسری مرتبہ ہجرت کرنے والوں میں آپ شامل تھے۔(الطبقات الكبرى جلد 4 صفحه 381 "عُتبه بن مسعود" وَمِنْ حُلَفَاءِ بنى زهرة بن كلاب_داراحیاء التراث العربي بيروت لبنان 1996ء) حضرت عقبہ بن مسعود اصحاب صفہ میں سے تھے۔(المستدرك على الصحيحين للحاكم جلد 5 صفحه 1615 كتاب الهجرة، حديث نمبر4294مكتبه نزار مصطفى الباز مكة مكرمة الرياض2000ء) صفہ کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے مختلف تواریخ سے تفصیل لے کر لکھا ہے۔لکھتے ہیں کہ مسجد کے ایک گوشے میں ایک چھت دار چبوترہ بنایا گیا تھا جسے صفہ کہتے تھے۔یہ ان غریب مہاجرین کے لیے تھا جو بے گھر بار تھے۔ان کا کوئی گھر نہیں تھا۔یہ لوگ یہیں رہتے تھے اور اصحاب الصفہ “ کہلاتے تھے۔ان کا کام گویا دن رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہنا، عبادت کرنا اور قرآن شریف کی تلاوت کرنا تھا۔ان لوگوں کا کوئی مستقل ذریعہ معاش نہ تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کی خبر گیری فرماتے تھے اور جب کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی ھدیہ وغیرہ آتا تھا یا گھر میں کچھ ہوتا تھا تو ان کا حصہ ضرور نکالتے تھے۔بلکہ بعض اوقات آپ خود فاقہ کرتے تھے اور جو کچھ گھر میں ہو تا تھا وہ اصحاب الصفہ کو بھجوا دیتے تھے۔انصار بھی ان کی مہمانی میں حتی المقدور مصروف رہتے تھے اور ان کے لیے کھجوروں کے خوشے لالا کر مسجد میں لٹکا دیا کرتے تھے لیکن اس کے باوجود ان کی