خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 450 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 450

خطبات مسرور جلد 17 450 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 اگست 2019 ذکر آتا ہے کہ آپ نے چھ ماہ کے بعد بیعت کی تھی۔چھے ماہ والی روایت میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ حضرت فاطمہ کی تیمار داری میں مصروفیت کی وجہ سے آپ حضرت ابو بکر کی بیعت نہ کر سکے اور جب آپ بیعت کرنے کے لیے آئے تو آپ نے یہ معذرت بھی کی کہ چونکہ فاطمہ بیمار تھیں اس لیے بیعت میں مجھے دیر ہو گئی ہے۔(ماخوذ از خلافت راشدہ صفحه 39 تا 42، انوار العلوم جلد 15) بہر حال اس وقت سب نے بیعت کی۔حضرت عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ جس وقت اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات دی تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر روئے اور انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم !ہم یہ چاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے مر جاتے۔ہمیں اندیشہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد فتنہ میں نہ پڑ جائیں۔حضرت معن صحابی جن کا ذکر ہو رہا ہے انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں نہیں چاہتا تھا۔لوگ تو یہ کہہ رہے تھے کہ ہم پہلے مر جاتے لیکن حضرت معن نے کہا نہیں۔میں نہیں یہ چاہتا تھا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے مر جاتا۔کیوں ؟ اس لیے کہ میں جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی طرح تصدیق نہ کر لوں جیسا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی تھی۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 244-245 معن بن عدى دار الاحياء التراث العربی بیروت 1996ء) جس طرح میں نے آپ کو نبی مانا تھا اسی طرح وفات کے بعد بھی اس بات کی تصدیق نہ کرلوں کہ خلافت راشدہ کا وہی نظام جس کی پیش گوئی آپ نے فرمائی تھی وہ جاری ہو چکا ہے اور اسی کو جاری رکھنا ہے اور منافقین اور مرتدین کے جال میں نہیں آنا۔پس یہی وہ ایمان کا معیار ہے جسے ہر احمدی کو بھی اپنے اندر قائم کرنا چاہیے۔ایک روایت کے مطابق حضرت معن حضرت خالد بن ولید کے ہمراہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مرتدین اور باغیوں کی سرکوبی میں شامل تھے اور حضرت خالد بن ولید نے دو سو گھڑ سواروں کے ہم راہ حضرت معن کو یمامہ کی طرف بطور ہر اول دستے کے بھیجا تھا۔(الاصابة في تميز الصحابه جلد6 صفحه 151 معن بن عدی، دارالکتب العلميه بيروت 2005ء) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معن کا حضرت زید بن خطاب کے ساتھ عقد مؤاخات قائم فرمایا تھا۔ان دونوں اصحاب نے حضرت ابو بکر صدیق کے دور خلافت میں جنگ یمامہ میں 12 ہجری میں شہادت پائی تھی۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 244 معن بن عدى دار الاحياء التراث العربي بيروت 1996ء) اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو بھی نبوت کے مقام کو پہنچانے کی بھی توفیق عطا فرمائے اور خلافت کے ساتھ وفا اور اخلاص کا تعلق پیدا کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 13 ستمبر 2019 ء جلد 26 شماره 53 صفحہ 05 تا 09)