خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 449 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 449

خطبات مسرور جلد 17 449 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 اگست 2019 انہوں نے انصار کو توجہ دلائی کہ تم پہلی قوم ہو جو مکے کے باہر ایمان لائی۔اب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد تم پہلی قوم نہ بنو جنہوں نے دین کے منشا کو بدل دیا اور کہتے ہیں کہ اس کا طبائع پر ایسا اثر ہوا کہ بشیر بن سعد خزر جی کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ یہ لوگ سچ کہتے ہیں۔ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو خدمت کی اور آپ کی نصرت و تائید کی وہ دنیاوی اغراض سے نہیں کی تھی اور نہ اس لیے کی تھی کہ ہمیں آپ کے بعد حکومت ملے بلکہ ہم نے خدا تعالیٰ کے لیے کی تھی۔پس حق کا سوال نہیں ہے کہ ہمارا حق ہے امیر بنے یا ہم میں سے خلیفہ بنے بلکہ سوال اسلام کی ضرورت کا ہے اور اس لحاظ سے مہاجرین میں سے ہی امیر مقرر ہونا چاہیے کیونکہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لمبی صحبت پائی ہے۔اس پر کچھ دیر تک اور بحث ہوتی رہی مگر آخر آدھ پون گھنٹے کے بعد لوگوں کی رائے اسی طرف ہوتی چلی گئی کہ مہاجرین میں سے کسی کو خلیفہ مقرر کرنا چاہیے۔چنانچہ حضرت ابو بکر نے حضرت عمررؓ اور حضرت ابو عبیدہ کو اس منصب کے لیے پیش کیا۔حضرت ابو بکر نے پھر خود پیش کیا کہ یا حضرت عمر نہیں یا حضرت ابوعبیدہ نہیں ان دونوں میں سے کسی کی بیعت کر لینی چاہیے مگر دونوں نے انکار کیا اور کہا کہ جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیماری کے دنوں میں نماز کا امام بنا یا تھا اور جو سب مہاجرین میں سے بہتر ہے ہم تو اس کی بیعت کریں گے۔جب حضرت ابو بکر نے حضرت عمرؓ کا اور حضرت ابو عبیدہ کا نام خلافت کے لیے پیش کیا تو اس پر حضرت عمر نے خود جو بیان کیا ہے، جو پچھلا تسلسل چل رہا تھا۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ اس بات کے سوا جیسا کہ انہوں نے کہاناں کہ حضرت ابو بکڑ نے یہ بڑی اعلیٰ تقریر کی اس میں یہ باتیں بھی ہوئیں۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ ساری باتیں بڑی اعلیٰ تھیں لیکن اس بات کے سوا میں نے اور کوئی بات ناپسند نہیں کی جو انہوں نے کہی یعنی کہ حضرت عمر کا نام پیش کیا یا حضرت ابو عبیدہ کا نام پیش کیا۔آپ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! یہ حال تھا جب حضرت ابو بکڑ نے میرا نام پیش کیا کہ اگر مجھے آگے بڑھا کر میری گردن اڑا دی جاتی تاکہ یہ موت مجھے کسی گناہ کے قریب نہ پھٹکنے دے تو مجھے یہ بات اس سے زیادہ پسند تھی کہ میں ایسی قوم کا امیر بنوں جس ابو کا میں ابو بکر ہوں یعنی ان کا مقام ایسا ہے کہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اس وقت مجھے حضرت ابو بکر کی موجودگی میں کہ اس وقت مجھے امیر بنادیا جائے تو میں نے اس کو نا پسند کیا۔باقی تقریر بہت اعلیٰ تھی۔بہر حال حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں حضرت عمرؓ نے جب کہا کہ جو مہاجرین میں سے سب سے بہتر ہے ہم اس کی بیعت کریں گے تو مطلب یہ تھا کہ اس منصب کے لیے حضرت ابو بکڑ سے بڑھ کر اور کوئی شخص نہیں۔چنانچہ اس پر حضرت ابو بکر کی بیعت شروع ہو گئی۔پہلے حضرت عمرؓ نے بیعت کی۔پھر حضرت ابوعبیدہ نے بیعت کی۔پھر بشیر بن سعد خزر جی نے بیعت کی اور پھر اوس اور پھر خزرج کے دوسرے لوگوں نے اور اس قدر جوش اس وقت پیدا ہوا کہ سعد جو بیمار تھے اور اٹھ نہ سکتے تھے۔ان کی قوم ان کو روندتی ہوئی آگے بڑھ کر بیعت کرتی تھی۔چنانچہ تھوڑی ہی دیر میں سعد اور حضرت علی کے سوا سب نے بیعت کر لی۔حتی کہ سعد کے اپنے بیٹے نے بھی بیعت کر لی۔حضرت علی نے کچھ دنوں بعد بیعت کی۔چنانچہ بعض روایات میں تین دن آتے ہیں اور بعض روایات میں یہ