خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 448 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 448

خطبات مسرور جلد 17 448 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 اگست 2019 انہوں نے کہا کہ یہ تو پہلی کمزوری ہے۔انصار جن کو امیر خلیفہ بنانا چاہتے تھے، انہوں نے کہا کہ یہ تو پہلی کمزوری ہے یعنی یا تو ہم میں سے خلیفہ ہونا چاہیے یا ان میں سے۔مِنَّا آمِیرُ وَمِنْكُمْ آمِیر کہنا تو گویا خلافت کے مفہوم کو نہ سمجھنا ہے اور اس سے اسلام میں رخنہ پڑے گا اور یہ رخنہ ڈالنا ہے۔اس مشورے کے بعد جب مہاجرین کو اطلاع ہوئی تو وہ جلدی سے وہیں آگئے جیسا کہ حضرت عمرؓ نے بیان فرمایا جو پہلے ذکر ہو چکا کہ آپ حضرت ابو بکر اور کچھ اور لوگ وہاں گئے۔کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اگر مہاجرین میں سے کوئی خلیفہ نہ ہوا تو عرب اس کی اطاعت نہیں کریں گے۔صرف مدینہ کی بات نہیں بلکہ پورے عرب کی بات ہے۔مدینے میں بے شک انصار کا زور تھا مگر تمام عرب مکہ والوں کی عظمت اور ان کے شرف کا قائل تھا۔پس مہاجرین نے سمجھا کہ اگر اس وقت انصار میں سے کوئی خلیفہ مقرر ہو گیا تو اہل عرب کے لیے سخت مشکل پیش آئے گی اور ممکن ہے کہ ان میں سے اکثر اس ابتلا میں پورے نہ اتریں چنانچہ جب سب مہاجرین وہیں آگئے اور ان میں حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ، حضرت ابو عبیدہ بھی شامل تھے۔حضرت عمررؓ کہتے ہیں کہ میں نے اس موقع پر بیان کرنے کے لیے ایک بہت بڑا مضمون سوچا ہو اتھا اور میرا ارادہ تھا کہ میں جاتے ہی ایک ایسی تقریر کروں گا جس سے تمام انصار میرے دلائل کے قائل ہو جائیں گے اور وہ اس بات پر مجبور ہو جائیں گے کہ انصار کے بجائے مہاجرین میں سے کسی کو خلیفہ منتخب کریں۔مگر جب ہم وہاں پہنچے تو حضرت ابو بکر تقریر کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔میں نے اپنے دل میں کہا کہ انہوں نے بھلا کیا بیان کرنا ہے مگر خدا کی قسم ! جتنی باتیں میں نے سوچی ہوئی تھیں وہ سب انہوں نے ، حضرت ابو بکر نے بیان کر دیں بلکہ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے پاس سے بھی بہت سے دلائل دیے۔تب میں نے سمجھا کہ میں ابو بکر کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔غرض مہاجرین نے انہیں بتایا کہ اس وقت قریش میں سے ہی امیر ہو ناضروری ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بھی پیش کی کہ الْاَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشِ کہ قریش میں سے تمہارے امام ہوں اور ان کی سبقت دین اور ان کی قربانیوں کا ذکر کیا جو وہ دین کے لیے کرتے چلے آئے تھے۔اس پر حُباب بن مُنْذِرُ خزرجی نے مخالفت کی اور کہا کہ ہم اس بات کو نہیں مان سکتے کہ مہاجرین میں سے خلیفہ ہونا چاہیے۔ہاں اگر آپ لوگ کسی طرح نہیں مانتے اور آپ کو اس پر بہت اصرار ہے تو پھر یہی ہے کہ ایک امیر آپ میں سے ہو جائے ایک ہمارے میں سے۔اس پر عمل کیا جائے کہ ایک خلیفہ ہم میں سے ہو اور ایک آپ لوگوں میں سے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ سوچ سمجھ کر بات کرو۔تمہیں معلوم نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایک وقت میں دو امیروں کا ہونا جائز نہیں ہے۔حضرت حضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیثیں تو ایسی موجود تھیں جن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نظام خلافت کی تشریح کی ہوئی تھی مگر آپ کی زندگی میں صحابہ کا ذہن اُدھر منتقل نہیں ہوا اور اس کی وجہ وہی خدائی حکمت تھی جس کا ذکر حضرت مصلح موعودؓ اپنے اس کے پہلے سیاق میں کر چکے ہیں جو بیان کر رہے ہیں۔بہر حال کہتے ہیں کہ پس حضرت عمرؓ نے کہا کہ تمہارا یہ مطالبہ کہ ایک امیر تم میں سے ہو اور ایک ہم میں سے عقلاً اور شرعا کسی طرح جائز نہیں۔پھر حضرت ابو بکر کا انتخاب کس طرح ہوا؟ کچھ بحث مباحثہ کے بعد حضرت ابو عبیدہ کھڑے ہوئے اور ہے۔